انہیں گذشتہ ماہ ایک جنگجو گروپ نے طالبان کے حامی ایک اور سابق افسر کے ہمراہ اغواکرلیا تھا۔طالبان نے مارچ کے آخری ہفتے میں آئی ایس آئی کے سابق افسر کرنل سلطان امیر تارڑ المعروف کرنل علی امام اور ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کے سربراہ خالد خواجہ کو شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ جاتے ہوئے ایک صحافی سمیت اغوا کر لیا تھا۔ بعض اطلاعات کے مطابق وہ جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے کمانڈر ولی الرحمان محسود سمیت طالبان کے مقامی کمانڈروں سے روابط کی کوشش کے سلسلہ میں وہاں گئے تھے۔خالد خواجہ افغان طالبان اوراسلامی جنگجوٶں کی حمایت کرتے رہے تھے اور انہوں نے 1990ء کی دہائی میں طالبان تحریک کی تشکیل میں کلیدی کردارادا کیا تھا۔ ان کے ماضی میں افغان طالبان سے قریبی روابط رہے تھے۔پاکستان کے دوانٹیلی جنس عہدے داروں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ خالد خواجہ کی لاش شمالی وزیرستان کے صدرمقام میران شاہ اور ایک اور مرکزی شہر میر علی کے درمیان واقع شاہراہ سے جمعہ کے روزملی ہے۔ ایک اور اطلاع کے مطابق ان کی لاش میر علی کے قریب ایک گڑھے سے برآمد ہوئی ہے.مقامی ٹی وی چینلز پر خالد خواجہ کی لاش کی تصویر نشر کی گئی ہے۔ انہیں سر اور سینے میں گولی مار کر قتل کیا گیا تھا۔ ان کے لاش کے قریب سے ایک تحریر بھی ملی ہے جس میں ان پر الزام عاید کیا گیا ہے کہ وہ ایک امریکی جاسوس تھے۔ اس میں مزید لکھا ہے کہ'جو کوئی بھی امریکا کے لیے جاسوسی کرے گا،اس کا انجام یہی ہوگا'۔خالدخواجہ اور ان کے ساتھیوں کے اغوا کے فوری بعد مقامی میڈیا کو ان کی ایک ویڈیو ٹیپ بھیجی گئی تھی جس میں ایک غیر معروف گروپ ایشین ٹائیگرز نے انہیں اغوا کرنے کی ذمہ داری قبول کی تھی.19 اپریل کو پاکستانی طالبان کے اس مبینہ گروپ نے خالدخواجہ اور کرنل علی امام کی ویڈیو جاری کی تھی اور انہوں نے ان کے بدلے میں دو زیر حراست افغان طالبان کمانڈروں کی رہائی اور تاوان کا مطالبہ کیا تھا۔ اس ویڈیو میں مقتول خواجہ کو یہ اعتراف کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا کہ وہ امریکی سی آئی اے اور پاکستانی ایجنسیوں دونوں کےایجنٹ تھے۔ویڈیو ٹیپ میں کرنل امام اور خالد خواجہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ وہ پاکستان آرمی کے سابق سربراہ جنرل مرزا اسلم بیگ اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ ریٹائرڈ لیفٹینٹ جنرل حمید گل کی ہدایت پر شمالی وزیرستان میں طالبان لیڈروں سے ملنے کے لیے گئے تھے۔ طالبان نے قریباً تین ہفتے کے بعد ان کو اغوا کرنے کی خبر ویڈیو ٹیپ کی شکل میں جاری کی تھی اور دھمکی دی تھی کہ اگر حکومت پاکستان نے افغان طالبان کے دو لیڈروں ملاعبدالکبیر اور ملا منصور داد اللہ اخوند کو رہا نہ کیا تو کرنل علی امام اور خالد خواجہ دونوں کو قتل کر دیا جائے گا لیکن ابھی کرنل علی امام کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے کہ ان کے ساتھ کیا کیا گیا ہے اور انہیں کہاں محبوس رکھا گیا ہے۔یاد رہے کہ ملا عبد الکبیر کو فروری 2010ء میں پاکستانی انٹیلی جنس نے گرفتار کیا تھا۔ وہ طالبان کے دور میں مشرقی صوبہ ننگرہار کے گورنر رہے تھے۔ ملا داداللہ اخوند بھی طالبان کے اہم کمانڈر رہے ہیں۔ انہیں پاکستانی سکیورٹی فورسز نے جنوری 2008ء میں گرفتار کیا تھا۔تب سے ان کے بارے میں کچھ معلوم نہیں کہ انہیں کہاں زیرحراست رکھا جارہا ہے۔خالدخواجہ طالبان جنگجوٶں کے حق میں بولتے رہتے تھے اور انہوں نے پاکستان میں مبینہ طور پر خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والے بیسیوں افراد کی بازیابی کے لیے تحریک چلائی تھی۔ وہ سرگودھا میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کیے گئے پانچ امریکیوں کے کیس کی بھی پیروی کررہے تھے اور انہی کی ایک اپیل پرصوبہ پنجاب کی اعلیٰ عدالت نے حکومت کو ان پانچوں کو ملک بدر نہ کرنے کا حکم دیا تھا۔خالدخواجہ نے ایک پاکستانی عدالت میں ایک اور درخواست دائر کی تھی جس میں انہوں نے استدعاکی تھی کہ وہ اسلام آباد حکومت کو حال ہی میں گرفتار کیے گئے افغان طالبان کے سرکردہ لیڈرملا عبدالغنی برادر کو ملک بدر کرنے سے روکے۔
۔۔۔۔۔
/110
متعلقہ لنکس: