11 ستمبر 2026 - 13:18
ٹرمپ کا بن سلمان کو بڑا جھٹکا، یمن پر حملے سے انکار

یمن میں انصار اللہ کی تیزی سے بڑھتی پیش قدمی نے سعودی عرب کو پریشان کر دیا، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مدد مانگ لی، تاہم ٹرمپ نے یمن میں براہِ راست فوجی کارروائی کی درخواست مسترد کر دی۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،امریکی ویب سائٹ آکسیوس نے دو امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ محمد بن سلمان نے جمعرات کے روز چند گھنٹوں کے دوران ٹرمپ سے دو مرتبہ ٹیلی فونک رابطہ کیا۔ سعودی ولی عہد نے دونوں رابطوں میں یمن کی بگڑتی صورتحال سے آگاہ کیا اور انصار اللہ کے خلاف امریکی حملے کی درخواست کی۔

تاہم سعودی ولی عہد کی درخواست پر ٹرمپ نے فوری حملے کا حکم دینے سے انکار کر دیا۔ امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن تیل کی بڑھتی ہوئی قیمت کی وجہ سے فی الحال یمن میں براہِ راست فوجی مداخلت نہیں کرنا چاہتا۔

یمن میں انصار اللہ کی ساحلی علاقوں کی جانب پیش قدمی نے سعودی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ خاص طور پر باب المندب کے قریب بڑھتی سرگرمیوں نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ باب المندب دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شامل ہے جہاں سے عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔

آکسیوس کے مطابق یمن میں ہونے والی پیش قدمی کی خبروں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی تیزی دیکھی گئی، جس سے خطے میں بڑھتی کشیدگی کے عالمی اثرات کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

امریکہ نے اگرچہ براہِ راست حملے سے انکار کر دیا ہے، تاہم سعودی عرب کو مکمل طور پر اکیلا چھوڑنے کا فیصلہ بھی نہیں کیا۔ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق واشنگٹن سعودی عرب کو انصار اللہ کے ممکنہ اہداف سے متعلق انٹیلی جنس اور معلومات فراہم کرے گا۔

ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ بریڈ کوپر بھی سعودی عرب پہنچ گئے ہیں۔ ان کے دورے کو موجودہ صورتحال کے پیش نظر اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکی اور سعودی حکام کے درمیان یمن کی صورتحال اور خطے میں بڑھتے سکیورٹی خطرات پر ہنگامی مشاورت جاری ہے۔

آکسیوس کے مطابق سعودی عرب کا موجودہ مؤقف چند ہفتے پہلے کے مقابلے میں بالکل مختلف نظر آ رہا ہے۔ جولائی میں ریاض نے واشنگٹن کو بتایا تھا کہ وہ یمن کے معاملے سے خود نمٹ سکتا ہے، لیکن اب حالات بدلتے دکھائی دے رہے ہیں اور سعودی عرب امریکہ سے مزید مدد کا خواہاں ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha