اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، صیہونی حکومت کے ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے انتخابی سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ گادی آیزنکوت، بنیامین نیتن یاہو اور نفتالی بینت ممکنہ انتخابات میں اب بھی اہم سیاسی شخصیات میں شامل ہیں، تاہم بعض دیگر جماعتوں کی پوزیشن میں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔
چینل 12 کے سروے کے مطابق، آیزنکوت کی قیادت میں ’’یشار‘‘ پارٹی 25 نشستوں کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے، جبکہ نیتن یاہو کی لیکود پارٹی 21 اور نفتالی بینت کی ’’باحد‘‘ پارٹی 13 نشستوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔
اس سروے میں یائر گولان کی قیادت میں ڈیموکریٹس پارٹی کو 10 نشستیں اور آویگدور لیبرمین کی ’’اسرائیل ہمارا گھر‘‘ پارٹی کو 9 نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ ’’یہودت ہتوراہ‘‘ نے 8، یوسف جبارین کی قیادت میں مشترکہ فہرست اور شاس نے 7، جبکہ ایتامار بن گویر کی قیادت میں ’’یہودی طاقت‘‘ پارٹی نے 6 نشستیں حاصل کی ہیں۔
مذہبی صیہونیت اور ’’زہوت‘‘ جماعتوں کو بھی 5، 5 نشستیں ملی ہیں، جبکہ عوفر وینٹر کی قیادت میں ’’عمخا اسرائیل‘‘ فہرست نے بھی 5 نشستیں حاصل کی ہیں۔
اتحادی سطح پر نیتن یاہو کے مخالف دھڑوں کو 68 نشستیں حاصل ہیں، جن میں 57 نشستیں صیہونی جماعتوں اور 11 نشستیں عرب جماعتوں کی ہیں، جبکہ حکمران اتحاد 52 نشستوں پر ہے۔
چینل 13 کے سروے میں آیزنکوت اور نیتن یاہو کے درمیان فرق کم دکھائی دیا ہے۔ اس سروے میں آیزنکوت کی جماعت کو 22 اور لیکود کو 19 نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ ’’باحد‘‘ اور ڈیموکریٹس کو بالترتیب 13 اور 10 نشستیں ملی ہیں۔
اس سروے میں ’’یہودی طاقت‘‘ نے نمایاں پیش رفت کرتے ہوئے 9 نشستیں حاصل کیں، جبکہ ’’یہودت ہتوراہ‘‘ اور ’’اسرائیل ہمارا گھر‘‘ کو 8، 8 نشستیں ملیں۔ شاس کو 7، مذہبی صیہونیت اور ’’زہوت‘‘ کو 6، 6 نشستیں جبکہ مشترکہ فہرست اور عرب متحدہ فہرست کو بالترتیب 8 اور 6 نشستیں حاصل ہوئیں۔
سیاسی دھڑوں کی تقسیم کے مطابق نیتن یاہو کا اتحاد اور ان کے مخالفین دونوں کو 53، 53 نشستیں حاصل ہیں، جبکہ عرب جماعتیں الگ دھڑے کی حیثیت سے 14 نشستوں پر ہیں۔
چینل ’’کان‘‘ کے سروے میں بھی آیزنکوت کی ’’یشار‘‘ پارٹی 24 نشستوں کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے، جبکہ نیتن یاہو کی لیکود پارٹی کو 21 نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ ’’باحد‘‘ کو 12 اور ڈیموکریٹس کو 9 نشستیں ملی ہیں، جبکہ ’’یہودت ہتوراہ‘‘، شاس اور ’’اسرائیل ہمارا گھر‘‘ کو بالترتیب 8، 7 اور 7 نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔
’’یہودی طاقت‘‘ اور مشترکہ فہرست نے 7، 7 نشستیں حاصل کیں، جبکہ عرب متحدہ فہرست کو 5 نشستیں ملیں۔ اس سروے میں ’’ہندل و زیلیخا‘‘ پارٹی پہلی مرتبہ انتخابی حدِ نصاب عبور کرتے ہوئے 4 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔
مجموعی طور پر تینوں سروے ممکنہ کنیسٹ انتخابات میں سخت مقابلے اور سیاسی دھڑوں کے درمیان غیر مستحکم توازن کی نشاندہی کرتے ہیں۔
اگرچہ تینوں سروے میں آیزنکوت نیتن یاہو سے آگے ہیں، تاہم چینل 13 اور ’’کان‘‘ کے دونوں سروے میں بڑے سیاسی دھڑوں کے درمیان مقابلہ انتہائی قریبی ہے، جہاں دونوں جانب بالترتیب 53 اور 52 نشستوں کا توازن سامنے آیا ہے۔ اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ ممکنہ انتخابات کا حتمی نتیجہ چند جماعتوں کی نشستوں میں معمولی تبدیلی اور انتخابی حدِ نصاب عبور کرنے یا ناکام رہنے پر منحصر ہوگا۔
آپ کا تبصرہ