اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، غزہ کی پٹی میں جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کرتے ہوئے اسرائیلی فوج نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مختلف علاقوں میں فائرنگ اور فضائی حملے کیے، جن کے نتیجے میں کم از کم 4 فلسطینی شہید ہوگئے۔
رپورٹ کے مطابق منگل کی شب اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے جنوبی غزہ میں بے گھر فلسطینیوں کے خیموں میں موجود فلسطینی بچہ عبیدہ اسامہ الشیخ عید شہید ہوگیا۔
وسطی غزہ کے النصیرات کیمپ میں جولس اسٹریٹ پر ایک خیمے کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں خمیس سعد شہید جبکہ 11 دیگر فلسطینی زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق خان یونس میں گزشتہ جمعے اسرائیلی حملے میں زخمی ہونے والا رہا شدہ فلسطینی قیدی رمزی ابوریدہ بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگیا۔ اس کے علاوہ 69 سالہ فتحی احمد محمود ابوعیادہ جنوبی خان یونس میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ کا نشانہ بن کر شہید ہوگئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فوج نے انخلا کے احکامات جاری کرنے کے بعد غزہ میں کم از کم 6 گھروں کو نشانہ بنایا۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے ایسے مقامات کے خلاف فضائی کارروائیاں شروع کی ہیں جہاں حماس کے ہتھیار ذخیرہ کیے جانے کا الزام ہے۔
وسطی غزہ کے البریج کیمپ میں بھی ایک گھر کو انخلا کی پیشگی وارننگ دینے کے بعد مسمار کردیا گیا، جبکہ جنوبی خان یونس کے بطن السمین علاقے میں ایک گھر پر حملے کے نتیجے میں 2 فلسطینی زخمی ہوئے۔
غزہ شہر میں بھی اسرائیلی جنگی طیاروں نے کم از کم 4 مقامات پر بمباری کی اور شہر کے جنوبی علاقے میں ایک زرعی زمین کو نشانہ بنایا۔ اسرائیلی طیاروں نے غزہ شہر کے مغربی حصے میں الشفا اسپتال کے اطراف میں بھی بمباری کی۔
رپورٹ کے مطابق 11 اکتوبر سے جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد شروع ہونے کے بعد سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 1,355 فلسطینی شہید اور 4,516 زخمی ہوچکے ہیں، جبکہ ملبے تلے دبے 827 شہدا کے جسد خاکی نکالے جاچکے ہیں۔
7 اکتوبر 2023 سے غزہ پر جاری اسرائیلی جنگ کے دوران مقامی ذرائع کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق اب تک 73,662 فلسطینی شہید اور 174,627 زخمی ہوچکے ہیں۔
آپ کا تبصرہ