9 ستمبر 2026 - 16:00
شام میں علوی مساجد کی اذان سے ’’حی علی خیر العمل‘‘ حذف کرنے پر تنازع؛ اوقاف نے سرکاری حکم کی تردید کردی

شام کے ساحلی علاقوں میں علوی مساجد کی اذان سے ’’حی علی خیر العمل‘‘ حذف کیے جانے کی اطلاعات پر مذہبی و سماجی حلقوں میں تشویش پیدا ہوگئی ہے، تاہم شامی وزارتِ اوقاف نے ایسی کسی سرکاری ہدایت کے اجرا کی تردید کی ہے، جبکہ طرطوس کے محکمہ اوقاف کے مطابق یہ ہدایت باضابطہ تحریری حکم کے بجائے زبانی طور پر دی گئی تھی اور بعد ازاں واپس لے لی گئی۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، شام کے ساحلی علاقوں میں گزشتہ چند روز سے علوی مساجد کی اذان سے ’’حی علی خیر العمل‘‘ کے الفاظ حذف کرنے کی کوششوں سے متعلق اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق یہ معاملہ ابتدائی طور پر طرطوس شہر کی بعض مساجد میں سامنے آیا، جہاں مبینہ طور پر مؤذنوں کو اذان میں ’’حی علی خیر العمل‘‘ نہ کہنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ اطلاعات میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ اس ہدایت کو بعد میں حمص، جبلة، بانیاس اور ان کے گرد و نواح کے دیہی علاقوں تک پھیلایا جاسکتا ہے۔

دوسری جانب دمشق میں شامی وزارتِ اوقاف کے ایک ذریعے نے ان اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ علوی مساجد میں اذان کے طریقہ کار میں تبدیلی یا ’’حی علی خیر العمل‘‘ پر پابندی کے حوالے سے وزارت کی جانب سے کوئی سرکاری سرکلر یا تحریری حکم جاری نہیں کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق وزارتِ اوقاف نے اس حوالے سے کوئی باضابطہ فیصلہ نہیں کیا۔

تاہم طرطوس کے محکمہ اوقاف سے وابستہ ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ اس معاملے پر ادارے کے اندر ہدایت زیر بحث آئی تھی، لیکن یہ کوئی باضابطہ انتظامی فیصلہ نہیں تھا۔ ذرائع کے مطابق یہ ہدایت ایک مذہبی شخصیت کی جانب سے زبانی طور پر ’’دینی خطاب میں یکسانیت‘‘ کے عنوان سے دی گئی تھی، اسی لیے اسے محکمہ اوقاف کا باقاعدہ فیصلہ قرار نہیں دیا گیا۔

اس معاملے نے اس وقت مزید شدت اختیار کی جب طرطوس میں علوی کونسل کے سربراہ شیخ علی محمد ہلہل نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر اس حوالے سے ایک تحریر شائع کی۔

شیخ علی محمد ہلہل نے ابتدا میں اذان سے ’’حی علی خیر العمل‘‘ حذف کرنے سے متعلق مبینہ ہدایت کا ذکر کیا، تاہم چند گھنٹے بعد یہ تحریر حذف کردی۔ اس اقدام کے بعد شام کے ساحلی علاقوں کے مذہبی اور سماجی حلقوں میں مختلف قیاس آرائیاں شروع ہوگئیں۔

بعد ازاں ہلہل نے ایک وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اذان سے ’’حی علی خیر العمل‘‘ حذف کرنے کی زبانی ہدایت، جو پہلے جاری کی گئی تھی، واپس لے لی گئی ہے۔

انہوں نے مسجد امام حسینؑ کے امام جمعہ و خطیب کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسجد امام علیؑ اور مسجد امام حسینؑ کے مؤذنوں کو بھی اس ہدایت کی واپسی سے آگاہ کردیا گیا ہے۔

اس طرح فی الحال یہ معاملہ طرطوس میں دی گئی ایک مبینہ زبانی ہدایت اور شامی وزارتِ اوقاف کی جانب سے کسی بھی سرکاری حکم کے اجرا کی تردید تک محدود ہے۔

اب تک شام کے دیگر علاقوں میں علوی مساجد کی اذان سے ’’حی علی خیر العمل‘‘ حذف کرنے کے حوالے سے کسی ملک گیر یا باضابطہ سرکاری فیصلے کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha