اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ خلیج فارس کی اجتماعی سلامتی کے کسی بھی مؤثر نظام میں ایران کا کردار نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی بحالی میں چین کی پہل اور روس کی حوصلہ افزائی نے اہم کردار ادا کیا۔
ماسکو کے سرکاری ادارے برائے بین الاقوامی تعلقات (MGIMO) میں طلبہ اور اساتذہ سے گفتگو کرتے ہوئے لاوروف نے کہا کہ روس نے دو دہائیوں سے زائد عرصہ قبل خلیج فارس کے ممالک، ایران اور عرب ریاستوں کو ایک مشترکہ علاقائی سلامتی کا تصور تشکیل دینے کے لیے مذاکرات کی تجویز دی تھی۔
انہوں نے کہا کہ خطے کے ممالک کے درمیان پیچیدہ تعلقات کے پیش نظر روس کا مقصد باہمی اختلافات پر بات چیت اور اعتماد سازی کے اقدامات کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا۔ ان کے مطابق عرب لیگ، اسلامی تعاون تنظیم اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان کی شمولیت سے اس عمل کو مزید آسان بنایا جا سکتا تھا۔
لاوروف نے کہا کہ فروری میں ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد خطے کی صورتحال تبدیل ہوئی۔ ان کے مطابق چند سال قبل چین کی پہل اور روس کی فعال حوصلہ افزائی کے نتیجے میں ایران اور سعودی عرب کے تعلقات معمول پر آئے تھے۔
روسی وزیر خارجہ نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے درمیان ہونے والے مکہ معاہدے کو اجتماعی سلامتی اور دفاعی اتحاد کی جانب ایک عملی قدم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کے فریق دیگر ممالک کے لیے بھی اس کے دروازے کھلے رکھنے پر زور دے رہے ہیں۔
لاوروف کے مطابق مصر سمیت دیگر ممالک بھی اس ڈھانچے میں شامل ہوسکتے ہیں اور اگر الجزائر بھی دلچسپی ظاہر کرے تو اس کا مثبت اثر پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران بھی مستقبل میں اس طرح کے علاقائی سکیورٹی ڈھانچے کا حصہ بننے پر آمادہ ہو تو یہ روس کے ابتدائی تصور کو عملی شکل دینے کی جانب سب سے مؤثر قدم ہوگا۔
آپ کا تبصرہ