بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے کل (پیر 8 ستمبر 2026 کے روز) اسرائیل کو اسلام آباد معاہدہ سبوتاژ کرنے کا ذمہ دار قرار دیا اور کہا کہ اس بار بھی اسرائیل کے جھوٹ اور تخریبی کارروائیاں ہی تھیں جنہوں نے اسلام آباد مفاہمت نامے کو، ـ جس نے پورے خطے کو چین اور سکون عطا کیا تھا، ـ برباد کر دیا۔
انھوں نے خطے میں جنگ کی بھاری لاگت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہا: "اس جنگ کی قیمت، جو اسرائیل کی اشتعال انگیزیوں اور سازشوں سے شروع ہوئی، نہ صرف ایران اور خلیج فارس کے برادر ممالک کی عوام برداشت کو برداشت کرنا پڑ رہی ہے، بلکہ یہ بوجھ ہر ایک پر ہے، خواہ وہ جنگ میں براہِ راست شامل ہو یا نہ ہو۔"
اردوان نے اپنے ملک کے اپنے مشن کے پر ثابت قدم رہنے کے عزم کا اظہار کیا اور کہا: "ہم کسی سے بغض اور عداوت نہیں رکھتے۔ بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ اس مشکل جغرافیے میں جہاں ہم واقع ہوئے ہیں، ایک آزاد، مستحکم اور خوشحال ریاست کے طور پر اپنا سفر جاری رکھیں۔"
انھوں نے ترکیہ کی بڑھتی ہوئی طاقت کے مخالفین کو خبردار کیا: "ہم کبھی اجازت نہیں دیں گے کہ یہ راستہ بند کیا جائے۔ جو لوگ ہمارے ملک کے مضبوط ہونے اور خطے میں امن و استحکام قائم کرنے کے لئے اس ملک کی کوششوں سے ناراض ہیں، وہ ہمیں ہمارے راستے سے ہٹا نہیں سکتے۔"
ترکیہ کے صدر نے یہ کہتے ہوئے کہ "کسی میں تاریخ کا رخ موڑنے کی طاقت نہیں ہے،" اور ترکیہ اپنے دوستوں سے مصافحہ کرے گا، اپنے قرابت داروں سے گلے ملے گا، اور اپنے بھائیوں کے ساتھ پھر سے متحد ہو جائے گا۔"
انہوں نے پختہ لہجے میں مزید کہا: "جو ترکیہ سے دوستی کریں گے وہ جیتیں گے، اور جو دشمنی کریں گے وہ ہاریں گے۔"
اردوان نے اپنی تقریر کے آخری حصے میں خطے کے بحرانوں کی جڑوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: "جب تک یہ انتہاپسندانہ ذہنیت، جو امن کے معمولی سے معمولی امکان کو بھی اپنے لئے خطرہ سمجھتی ہے، تبدیل نہیں ہوتی، اس وقت تک ہمارے خطے میں بحرانوں کا طوفان تھمنے والا نہیں ہے۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ