اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، الجزیرہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لیبیا میں سیاسی افراتفری اور سرکاری اداروں کی کمزوری نے بدعنوان گروہوں کو تیل کی غیر قانونی فروخت سے بھاری منافع کمانے کا موقع فراہم کیا ہے، جس کا بڑا حصہ ملکی خزانے تک نہیں پہنچتا۔
بدعنوانی ملکی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ
لیبیا کی اعلیٰ ریاستی کونسل کی اقتصادی کمیٹی کے رکن سعید ونیس نے کہا ہے کہ سیاسی انتشار اور سرکاری اداروں کی کمزوری کے باعث بدعنوان عناصر نے تیل کی آمدنی سے اربوں ڈالر لوٹ لیے ہیں۔ ان کے بقول یہ رقم ملکی ترقی پر خرچ ہونے کے بجائے مفاد پرست افراد کی جیبوں میں جا رہی ہے۔
ان مشکلات کے باوجود لیبیا کی قومی تیل کمپنی نے تیل کے شعبے میں 36 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جس کے ذریعے 2031 تک یومیہ تیل کی پیداوار 20 لاکھ بیرل تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
کمپنی کے بورڈ کے سربراہ مسعود سلیمان کے مطابق اس سرمایہ کاری میں 20 ارب ڈالر کمپنی خود فراہم کرے گی، جبکہ 16 ارب ڈالر غیر ملکی شراکت داروں سے حاصل کیے جائیں گے۔
توانائی کے ماہر ناجی ابوشغفہ نے تیل کی پیداوار بڑھانے کے ساتھ اس کی ترسیل کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے پر زور دیا ہے۔ ان کے مطابق ترسیلی نظام کو وسعت دیے بغیر تیل کی پیداوار میں اضافہ زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہوگا۔
چند ماہ قبل لیبیا کی قومی حکومت اور مشرقی حصے میں موجود فوجی قیادت کے درمیان متفقہ بجٹ پر بھی اتفاق ہوا تھا، جس سے تیل کے شعبے کو مضبوط بنانے اور پیداوار بڑھانے میں مدد ملنے کی امید ہے۔
رواں سال جنوری میں لیبیا کی قومی تیل کمپنی نے فرانس کی ٹوٹل انرجیز اور امریکا کی کونوکو فلپس کے ساتھ تیل کے ذخائر کی ترقی کے لیے 20 ارب ڈالر کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
جون 2026 میں لیبیا نے یومیہ تقریباً 14 لاکھ 39 ہزار بیرل تیل پیدا کیا، جس کے باعث وہ افریقہ کا دوسرا بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک اور اوپیک کا رکن ہے۔ ملک کے تیل کے ذخائر کا ایک بڑا حصہ مشرقی لیبیا میں واقع ہے، جہاں فوجی کمانڈر خلیفہ حفتر کا اثر و رسوخ ہے۔
آپ کا تبصرہ