اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، آدیداس نے اسرائیلی فوج کے سابق نشانہ باز شالف بیتون کو اپنی ’’سنگل شُو‘‘ اسکیم کی تشہیر کے لیے منتخب کیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت ایسے افراد جنہیں صرف ایک جوتے کی ضرورت ہوتی ہے، مکمل جوڑی کے مقابلے میں نصف قیمت پر ایک جوتا خرید سکتے ہیں۔
بیتون اسرائیلی فوج کی ناحال بریگیڈ کی 931 بٹالین میں نشانہ باز کے طور پر خدمات انجام دے چکا ہے۔ 2021 میں غزہ کے خلاف جنگ کے دوران ایک فوجی گاڑی پر ٹینک شکن میزائل حملے میں وہ شدید زخمی ہوا، جس کے بعد تین سال تک علاج اور 40 سے زائد آپریشنز کے باوجود اس کی بائیں ٹانگ کاٹنا پڑی۔
فلسطینی بچوں کے ساتھ دوہرا معیار؟
آدیداس کی تشہیری مہم میں بیتون کو شامل کیے جانے کے بعد فلسطین کے حامی صارفین نے سوشل میڈیا پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی حملوں کے باعث ہزاروں فلسطینی، خصوصاً بچے، اپنے اعضا سے محروم ہوئے اور مستقل معذوری کا شکار ہوئے، لیکن کمپنی نے اپنی تشہیر کے لیے ایک اسرائیلی فوجی کی معذوری کو نمایاں کیا۔
سوشل میڈیا صارفین نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر معذوری کا شکار اسرائیلی فوجی تشہیری مہم کا چہرہ بن سکتا ہے تو غزہ کے وہ بچے کہاں ہیں جنہوں نے اسرائیلی حملوں میں اپنے ہاتھ، پاؤں اور دیگر اعضا کھو دیے؟
اواخر اگست میں آدیداس کی اس تشہیری مہم کی تصاویر سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئر ہونے کے بعد کمپنی کے خلاف احتجاج اور بائیکاٹ کے مطالبات میں اضافہ ہوا ہے۔ ناقدین اسے غزہ کے فلسطینی متاثرین کے ساتھ امتیازی سلوک اور دوہرے معیار کی مثال قرار دے رہے ہیں۔
آپ کا تبصرہ