17 جولائی 2010 - 19:30

مردانگی اور دینداری کے نام پر انسان کشی کرنے والوں نے عورتوں کو بھی دہشت گردی کا نشانہ بنانا شروع کیا؛ کوئٹہ میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے بلوچستان یونیورسٹی کی شیعہ خاتون پروفیسر شہید ہوگئیں۔

 ناظمہ طالب پہلی خاتون ہیں جو بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کا شکار ہوئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 48 سالہ ناظمہ طالب یونیورسٹی میں اپنے فرائض کی ادائیگی کے بعد رکشے میں سوار ہوکر گھر جارہی تھیں کہ اس دوران نامعلوم مسلح افراد نے ان پر فائرنگ کردی جس سے وہ زخمی ہوگئیں۔

سینئر پولیس افسر کے مطابق خاتون پروفیسر کو کئی گولیاں لگیں اور انہیں شدید زخمی حالت میں اسپتال لیجایا جارہا تھا کہ وہ راستے میں ہی دم توڑ گئیں۔

ناظمہ طالب گزشتہ بیس سال سے بلوچستان یونیورسٹی میں شعبہ ابلاغیات عامہ میں پروفیسر کی خدمات سرانجام دے رہی تھیں وزیراعلیٰ بلوچستان نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے ملزموں کی جلد گرفتاری کا حکم دیا ہے۔

اس واقعہ کے بعد اساتذہ اور یونیورسٹی طلبہ کی ایک بڑی تعداد ہسپتا ل پہنچ گئی اور حکومت کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ منگل کی شام ہونے والے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے طلبہ رہنماؤں نے حکومت پر شدید تنقید کی اور کہا کہ حکومت ٹارگٹ کلنگ خصوصاً اساتذہ کے قتل کی وارداتوں کو روکنے میں ناکام ہو چکی ہے۔

 حکام نے ہدف بنا کر قتل کیے جانے کی واردات قرار دیتے ہوئے اس رکشہ ڈرائیور کو حراست میں لے لیا ہے جس میں مقتول پروفیسر سوار تھیں۔

کوئٹہ میں بلوچستان یونیورسٹی کی خاتون پروفیسر کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے یونیورسٹی اساتذہ نے کہا ہے کہ کوئٹہ میں اس سے قبل بھی غیر مقامی اساتذہ، سرکاری افسران واہلکاروں اور عام شہریوں کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا جاچکا ہے اور آج بلوچستان یونیورسٹی کی خاتون پروفیسر کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیا جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

پروفیسرناظمہ طالب کے قتل کا مقدمہ کوئٹہ کے سریاب تھانے میں درج کرلیا گیا جبکہ پولیس نے مختلف مقامات پر چھاپے مارکر 22مشتبہ افراد حراست میں لے لیا۔

بلوچستان یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات سے 22سالوں سے منسلک پروفیسر ناظمہ طالب کو سریاب روڈ پرپولیس اسٹیشن کے قریب نا معلوم افرادنے انہیں فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا ان کی میت منگل کی شب کراچی پہنچ گئی ۔ جہاں انہیں آج سپردخاک کیاجائے گا۔ پروفیسر ناظمہ طالب کے قتل کا مقدمہ کوئٹہ کے سریاب تھانے میں ان کے بیٹے اعجاز احمد کی مدعیت میں درج کرلیاگیاجبکہ پولیس نے مختلف مقامات پر چھاپے مارکر 22مشتبہ افراد حراست میں لے لیا ہے جن سے اس واقعہ کے حوالے سے تفتیش کی جارہی ہے۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/152۔