اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، بھارت اور اقوام متحدہ کے درمیان ملک میں مذہبی و نسلی اقلیتوں کی صورتحال کے معاملے پر اختلافات شدت اختیار کرگئے ہیں۔ بھارتی حکومت نے اقوام متحدہ کی نسلی امتیاز کے خاتمے سے متعلق کمیٹی کی رپورٹ کے بعض نکات کو ’’سیاسی اور انتہائی بدنیتی پر مبنی‘‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔
بھارتی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ نئی دہلی نے اقوام متحدہ کی کمیٹی کی جانب سے بھارت میں نسلی امتیاز کے خاتمے سے متعلق عالمی کنونشن کے تحت ملک کی صورتحال کے حالیہ جائزے کے دوران سامنے آنے والے مشاہدات اور سفارشات کا نوٹس لیا ہے۔
وزارت خارجہ نے کہا کہ رپورٹ میں کیے گئے بعض سیاسی اور نقصان دہ حوالوں کو بھارت مسترد کرتا ہے اور متعلقہ بین الاقوامی طریقہ کار کے تحت ان کا جواب دیا جائے گا۔
بھارتی حکومت نے اس معاملے پر ایک بین الوزارتی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے جس کی سربراہی بھارت کے اٹارنی جنرل تشار مہتا کریں گے۔ یہ کمیٹی اقوام متحدہ کی کمیٹی کی جانب سے اٹھائے گئے نکات کا جائزہ لے گی اور حکومت کی جانب سے جواب کی تیاری میں معاونت کرے گی۔
اقوام متحدہ کی نسلی امتیاز کے خاتمے سے متعلق کمیٹی ایک آزاد ماہر ادارہ ہے جو رکن ممالک میں نسلی امتیاز کے خاتمے سے متعلق عالمی کنونشن پر عمل درآمد کی نگرانی کرتا ہے۔
کمیٹی نے بھارت کی حالیہ صورتحال کے جائزے کے دوران بعض نسلی اور مذہبی اقلیتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق رپورٹس پر تشویش ظاہر کی۔
رپورٹ میں بھارت کی مقامی آبادیوں اور قبائلی برادریوں، دلتوں اور غیر شہریوں سے متعلق بھی مختلف تحفظات سامنے رکھے گئے۔ کمیٹی نے بعض گروہوں کے ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے رویے اور کارروائیوں پر بھی سوالات اٹھائے۔
بھارت کی صورتحال کا جائزہ 11 اور 12 اگست کو جنیوا میں ہونے والے اجلاس کے دوران لیا گیا۔ اس دوران بھارت کی جانب سے نسلی امتیاز کی تمام اقسام کے خاتمے سے متعلق کنونشن کے تحت پیش کی گئی متواتر رپورٹوں کا جائزہ لیا گیا۔
بھارتی وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ کی کمیٹی کے تحفظات کے جواب میں ملک کے آئینی اور قانونی نظام کا دفاع کیا ہے۔
نئی دہلی کا کہنا ہے کہ بھارت ایک کثیر مذہبی، کثیر نسلی اور متنوع معاشرہ ہے اور اس کا آئینی نظام تمام شہریوں کے لیے مساوات، انسانی وقار اور مواقع کی فراہمی کو یقینی بنانے کے اصول پر قائم ہے۔
بھارتی حکومت کے مطابق پسماندہ اور حاشیے پر موجود طبقات کے تحفظ کے لیے مختلف قانونی، عدالتی، انتظامی اور سماجی و اقتصادی اقدامات کیے گئے ہیں۔
وزارت خارجہ نے کہا کہ قانونی نظام، عدالتی ادارے، حکومتی پالیسیاں اور سماجی و اقتصادی ترقی کے پروگرام بھارت میں شہریوں کے حقوق اور مساوی مواقع کے تحفظ کے بنیادی ذرائع ہیں۔
بھارت نے یہ بھی یاد دلایا کہ وہ نسلی امتیاز کی تمام اقسام کے خاتمے سے متعلق عالمی کنونشن کی تیاری کے عمل میں شریک رہنے والے ممالک میں شامل ہے۔
بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق 1960 کی دہائی میں جب ترقی پذیر ممالک نوآبادیاتی نظام، نسل پرستی اور نسلی امتیاز کے خلاف عالمی سطح پر آواز اٹھا رہے تھے، اس وقت بھارت نے بھی اس کنونشن کی تیاری اور اس سے متعلق مذاکرات میں حصہ لیا تھا۔
اقوام متحدہ کی کمیٹی کی جانب سے بھارت میں اقلیتوں اور دیگر پسماندہ طبقات کی صورتحال پر تحفظات اور نئی دہلی کی جانب سے رپورٹ کے بعض حصوں کو مسترد کیے جانے کے بعد بھارت میں اقلیتوں کے حقوق کا معاملہ ایک بار پھر بین الاقوامی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
بھارتی حکومت کا مؤقف ہے کہ ملک میں اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کے تحفظ کے لیے آئینی اور قانونی ضمانتیں موجود ہیں، جبکہ اقوام متحدہ کی کمیٹی نے اپنی حالیہ جائزہ کارروائی میں مختلف گروہوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق رپورٹس پر تشویش ظاہر کی ہے۔
یوں اقلیتوں کے حقوق اور بھارت کے داخلی قانونی نظام سے متعلق نئی دہلی اور اقوام متحدہ کے ماہر ادارے کے مؤقف میں واضح اختلاف سامنے آیا ہے۔
آپ کا تبصرہ