اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے نامور دانشور "احمد الربح" نے حال ہی میں اہل تشیع کے خلاف سعودی حکومت کے امتیازی سلوک پر تنقید کی تھی چنانچہ سعودی حکمرانوں نے انہیں ممنوع القلم کردیا ہے۔ فکر، سوچ اور گفتار کی آزادی کے دشمن وہابی حکمرانوں نے اس شیعہ دانشور کو کئی روز تک سیکورٹی ایجنسیوں کے تحت ہونے والی مشترکہ تفتیش اور نہایت شدید اذیت و آزار اور تشدد کا کا نشانہ بنایا۔ احمد الربح نے کچھ عرصہ قبل اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے نام خط لکھ کر ان سے ماہرین کی ایک ٹیم تشکیل دے کر سعودی عرب میں اہل تشیع کے خلاف روا رکھے جانے والے امتیازی طرز عمل اور تشدد آمیز اقدامات کے بارے میں تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا تھا۔علاوہ ازیں انھوں نے شیعہ شخصیات کی گرفتاری اور شیعہ مساجد کی بندش کے سلسلے میں سعودی حکمرانوں سے مطالبہ کیا تھا کہ آزادانہ عوامی انتخابات کے ذریعے منتخب پارلیمان تشکیل دیں۔ قابل ذکر ہے کہ حالیہ مہینوں کے دوران حسين اليوسف، ناصر الجاروف، حسين العلق اور نوال اليوسف یوسف سمیت متعدد شیعہ دانشوروں کو حبس بے جا میں رکھ کر سیکورٹی ریمانڈ اور جوائنٹ انوسٹی گیشن کے دوران طویل عرصے تک تشدد اور ذہنی و جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ دریں اثناء دنیا جہان میں انسانی حقوق کے بلندبانگ نعرے لگانے والے تمام مغربی ممالک کے تعلقات سعودی حکمرانوں کے ساتھ روز بروز وسیع سے وسیعتر ہورہے ہیں اور کئی اسلامی ممالک میں منشیات کی کاروباریوں تک کو قید کئے جانے پر مگر مچھ کے آنسو بہانے اور انسانیت کے نام پر دنیا کے مستقل ممالک کو بلیک میل کرنے والے امریکی اور یورپی حکمرانوں کو سعودی عرب میں انسانی حقوق اور شہریوں کے بنیادی حقوق کی اعلانیہ خلاف ورزی نظر تک نہیں آرہی ہے۔.....
/110