اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی کے مطابق بحرین میں درجنوں شیعہ علما اور روحانی شخصیات کے خلاف عدالتی کارروائی ایسے وقت میں جاری ہے جب مقدمے کی سماعت کے طریقہ کار، گواہوں کے بیانات اور ان کی جانب سے پیش کیے جانے والے دعووں پر سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ناقدین کے مطابق اگر ان الزامات کی غیر جانب دارانہ اور مکمل جانچ نہ کی گئی تو اس کے نتیجے میں بحرینی حکومت اور ملک کی شیعہ برادری کے درمیان خلیج مزید وسیع ہوسکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 19 اگست کو ہونے والی تازہ سماعت 13 گھنٹے سے زائد جاری رہی۔ عدالتی کارروائی کے دوران ججوں اور ملزمان کو الگ الگ ہالز میں رکھا گیا، جبکہ بعض گواہوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔
سماعت کے دوران ایک گواہ نے اپنا چہرہ ڈھانپ کر عدالت میں پیش ہو کر بیان دیا، جس نے بھی اس مقدمے کے طریقہ کار پر مزید توجہ مبذول کرائی۔
ملزمان کے وکلا نے گواہوں کے بیانات اور دعووں پر متعدد سوالات اٹھائے۔ ایک گواہ سے ’’ولایت فقیہ‘‘ کے تصور کے بارے میں سوال کیا گیا، تاہم رپورٹس کے مطابق وہ اس سوال کا واضح جواب دینے میں مشکلات کا شکار رہا۔
اسی طرح آیت اللہ شیخ عیسیٰ قاسم اور ’’المجلس الاسلامی العلمائی‘‘ کے قیام کے درمیان مبینہ تعلق کے حوالے سے بھی دعوے سامنے آئے، جن پر وکلا نے اعتراض کیا اور گواہ کے بیان کی صحت، تسلسل اور اعتبار کے بارے میں سوالات اٹھائے۔
سماعت کا ایک اہم حصہ شیخ ہانی البناء کے بیان پر بھی مشتمل تھا۔ انہوں نے اپنے اور دیگر ملزمان کے دفاع میں کہا کہ اس مقدمے کو صرف چند افراد کے خلاف کارروائی تک محدود نہیں کیا جا سکتا، بلکہ ان کے بقول اس کے اثرات بحرین کی شیعہ برادری اور اس کی شناخت تک پہنچتے ہیں۔
انہوں نے ان دستاویزات پر بھی سوال اٹھایا جنہیں ملزمان کے ’’اعترافات‘‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ہزاروں صفحات پر مشتمل بعض دستاویزات ملزمان کو فراہم ہی نہیں کی گئیں، جبکہ کچھ اعترافات دباؤ کے تحت حاصل کیے گئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پوچھ گچھ کے عمل کی حقیقت جاننے کے لیے متعلقہ عدالتی اداروں کے کیمروں کی ریکارڈنگ کا جائزہ لیا جائے۔
رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ عدالت میں شیخ ہانی البناء کے بیان کے دوران انہیں متعدد مرتبہ روکنے کی کوشش کی گئی اور جج کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا۔
مقدمے کی کارروائی پر تنقید کرنے والے حلقوں کا کہنا ہے کہ گواہوں کے بیانات میں مبینہ تضادات اور دفاع کے حوالے سے سامنے آنے والی رکاوٹیں اس امر کی اہمیت بڑھا دیتی ہیں کہ مقدمے میں شواہد کا مکمل اور غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے اور ملزمان کو مؤثر قانونی دفاع کا حق دیا جائے۔
دوسری جانب اس مقدمے کے ممکنہ فیصلے کے حوالے سے بھی تشویش بڑھ رہی ہے۔ بعض مبصرین نے طویل قید سمیت سخت سزاؤں اور سنگین نوعیت کے سیاسی و سکیورٹی الزامات عائد کیے جانے کے امکان کا اظہار کیا ہے۔
ناقدین کے مطابق اگر ملزمان کو مؤثر دفاع کا موقع فراہم کیے بغیر اور اعترافات کے حصول کے طریقہ کار سے متعلق دعووں کی شفاف تحقیقات کے بغیر کارروائی آگے بڑھائی گئی تو اس کے بحرین کی داخلی سیاسی اور سماجی صورتحال پر وسیع اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
مجموعی طور پر شیعہ علما کے خلاف جاری یہ مقدمہ بحرین میں مذہبی شخصیات اور شیعہ برادری کی صورتحال سے متعلق اہم ترین مقدمات میں شمار کیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق کشیدگی کم کرنے، منصفانہ عدالتی عمل کو یقینی بنانے اور اس معاملے کے سیاسی حل کی جانب پیش رفت ہی داخلی اختلافات کو مزید بڑھنے سے روکنے کا مؤثر راستہ ہوسکتی ہے۔
آپ کا تبصرہ