اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، رائٹرز نے امریکی محکمہ دفاع کی ایک دستاویز کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو 6 نومبر تک یورپ میں امریکی فوجی موجودگی کی سطح اور نوعیت سے متعلق کم از کم چار مختلف تجاویز پیش کی جائیں گی، جبکہ اس نظرثانی کو مکمل کرنے کی حتمی مدت دسمبر مقرر کی گئی ہے۔
یہ جائزہ جون میں شروع کیا گیا تھا اور چھ ماہ تک جاری رہے گا۔ اس دوران نیٹو کے بعض ارکان میں خدشات پیدا ہوئے ہیں کہ امریکہ یورپ میں اپنی فوجی موجودگی میں بڑے پیمانے پر کمی کر سکتا ہے۔
امریکہ اس وقت یورپ میں تقریباً 80 ہزار فوجی اہلکار تعینات کیے ہوئے ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت اس سے قبل یورپ کے لیے مختص امریکی فوجی وسائل کم کرنے اور یورپی ممالک پر دفاعی ذمہ داریوں کا زیادہ حصہ ڈالنے پر زور دے چکی ہے۔
امریکی حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ ٹرمپ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ میں بعض یورپی اتحادیوں کی ناکافی حمایت پر ناراض ہیں۔ اس صورتحال سے یورپ میں امریکی فوجیوں کی تعداد کم کیے جانے کا امکان مزید بڑھ گیا ہے۔
رائٹرز کے حوالے سے دستاویز کے مطابق، پینٹاگون نیٹو رکن ممالک میں امریکی فوجیوں کی اڈوں تک رسائی، تعیناتی اور فضائی حدود کے استعمال کے حقوق کے علاوہ خلائی و سائبر شعبوں اور انٹیلی جنس سے متعلق ڈھانچوں و بنیادی سہولتوں کا بھی جائزہ لے گا، جو امریکہ کو عالمی سطح پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے کے قابل بناتے ہیں۔
نظرثانی میں اتحادی ممالک کی دفاعی اخراجات برداشت کرنے کی صلاحیت اور نیٹو کی ہنگامی ردعمل کی فورس میں موجود خلا کو پُر کرنے کی ان کی استعداد بھی شامل ہے۔
اسی سلسلے میں امریکہ نے اپنے اتحادیوں کو ایک سوالنامہ بھی ارسال کیا ہے، جس میں دفاعی اخراجات، حکمت عملی، فوجی سازوسامان کی خریداری اور واشنگٹن کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات کی حمایت سمیت مختلف امور پر معلومات طلب کی گئی ہیں۔ نیٹو رکن ممالک کو ان سوالات کے جوابات فراہم کرنا ہوں گے۔
پینٹاگون کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بھی کہا ہے کہ مختلف آپشنز تیار کرنے کا مقصد اس نظرثانی کی سنجیدگی کو ظاہر کرنا ہے۔ ان تجاویز میں یورپ میں موجودہ امریکی فوجی موجودگی برقرار رکھنے سے لے کر مستقبل میں امریکی فوجیوں کی تعداد اور ساخت میں ممکنہ تبدیلیوں تک مختلف امکانات کا جائزہ لیا جائے گا۔
آپ کا تبصرہ