26 اگست 2026 - 16:20
امریکی پابندیاں اور ایران؛ کیا ’’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘‘ کی پالیسی ناکام ہو رہی ہے؟

ایران پر کئی دہائیوں سے جاری امریکی پابندیوں کے باوجود تہران نے مشرقی طاقتوں کے ساتھ اقتصادی روابط بڑھا کر اور متبادل تجارتی راستے اختیار کرکے دباؤ کا مقابلہ کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہی عوامل امریکی ’’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘‘ کی پالیسی کو اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنانی مصنف اکرم بزی نے ایران کے خلاف امریکا کی بڑھتی ہوئی پابندیوں کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا ہے کہ واشنگٹن نے 1979 سے ایران پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جو گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران تجارتی اور تیل کی پابندیوں سے بڑھ کر بینکاری، مالیاتی شعبے اور تہران کے اقتصادی شراکت داروں پر دباؤ تک پھیل چکی ہیں۔

اگست 2026 میں امریکا نے اپنے دباؤ میں مزید اضافہ کرتے ہوئے پابندیوں کا دائرہ کمپنیوں اور اداروں سے بڑھا کر بعض حکومتی روابط اور تعلقات تک پھیلا دیا ہے۔

ان اقدامات کے نتیجے میں بیرونِ ملک ایرانی مالیاتی اداروں کو بھی مزید پابندیوں کا سامنا ہے اور انہیں میزبان ممالک کے قوانین اور عالمی مالیاتی نظام کے تحت سخت نگرانی سے گزرنا پڑ رہا ہے۔

تاہم ایران نے گزشتہ برسوں کے دوران غیر مغربی ممالک اور طاقتوں کے ساتھ اقتصادی و سیاسی تعلقات مضبوط کرکے امریکی پابندیوں کے اثرات کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ برکس، شنگھائی تعاون تنظیم اور یوریشیا کے اقتصادی نظام میں ایران کی رکنیت اور فعال شرکت بھی اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔

دوسری جانب چین اور ترکی سمیت مختلف ممالک کے ساتھ ایران کے تجارتی روابط برقرار ہیں۔ چین کی جانب سے ایرانی تیل کی خریداری کا سلسلہ بھی جاری ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی یکطرفہ پابندیاں تہران کے تمام اقتصادی شراکت داروں کو ایران کے ساتھ تجارت سے روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔

ایران کی جغرافیائی اہمیت بھی اسے مکمل اقتصادی تنہائی سے بچانے والا ایک اہم عنصر ہے۔ خلیج فارس، بحیرہ عمان اور بحیرہ کیسپین کے قریب واقع ہونے کے علاوہ ایران کی کئی ممالک کے ساتھ زمینی سرحدیں ہیں، جس کی وجہ سے تجارت اور اقتصادی روابط کے لیے متعدد راستے موجود ہیں۔

پاکستان، ترکی، عراق، وسطی ایشیائی ممالک اور خلیجی ریاستوں سمیت خطے کے مختلف ممالک اور ایشیائی طاقتوں کے ساتھ ایران کے اقتصادی روابط نے بھی متبادل تجارتی راستوں کے امکانات پیدا کیے ہیں۔

یوں امریکا کی جانب سے ایران پر اقتصادی دباؤ ایسے ماحول میں ڈالا جا رہا ہے جہاں تہران کے گرد علاقائی اور بین الاقوامی مفادات کا ایک وسیع نیٹ ورک موجود ہے۔

مجموعی طور پر عالمی نظام میں ہونے والی تبدیلیاں اور دنیا کا کثیر قطبی نظام کی جانب بڑھنا بھی امریکی یکطرفہ پابندیوں کی اثر انگیزی کو محدود کر رہا ہے۔

مقامی کرنسیوں میں تجارت، دوطرفہ معاہدے اور مغربی مالیاتی نظام سے باہر متبادل تجارتی طریقہ کار بھی ایران کی جانب سے پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے استعمال کیے جانے والے اہم ذرائع میں شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، اگرچہ امریکی پابندیاں ایران پر نمایاں اقتصادی دباؤ اور اخراجات مسلط کر رہی ہیں، تاہم پیچیدہ جغرافیائی سیاسی تعلقات اور متبادل اقتصادی نیٹ ورکس کے قیام کے باعث ’’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘‘ کی پالیسی اب تک اپنے حتمی مقصد، یعنی تہران کو ہتھیار ڈالنے اور اپنی بنیادی پالیسیوں میں تبدیلی پر مجبور کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha