25 اگست 2026 - 22:27
امریکہ کی نئی پابندیاں؛ ایران کے خلاف فوجی محاذ پر ناکامی کے بعد معاشی دباؤ میں اضافہ

امریکہ نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے متعدد ایرانی اداروں، افراد اور بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق یہ پابندیاں ایران کی فوجی سرگرمیوں، اسلحہ کی خریداری اور مبینہ انٹیلی جنس نیٹ ورکس سے وابستہ عناصر کے خلاف عائد کی گئی ہیں۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے متعدد ایرانی اداروں، افراد اور بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق یہ پابندیاں ایران کی فوجی سرگرمیوں، اسلحہ کی خریداری اور مبینہ انٹیلی جنس نیٹ ورکس سے وابستہ عناصر کے خلاف عائد کی گئی ہیں۔

امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ نئی پابندیوں کا مقصد ایسے ایرانی اداروں اور نیٹ ورکس کو محدود کرنا ہے جو واشنگٹن کے بقول امریکی فوجیوں اور خطے میں اس کے اتحادیوں کے خلاف کارروائیوں کے لیے معلومات اکٹھی کرتے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ نے مزید کہا کہ واشنگٹن ایران کی فوجی اور جوہری سرگرمیوں کو روکنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ اس سلسلے میں ایران سے تیل کی منتقلی میں مبینہ طور پر کردار ادا کرنے والی کمپنیوں، ٹرانسپورٹ نیٹ ورکس اور بعض ثالثوں کو بھی پابندیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان میں متحدہ عرب امارات، چین، سنگاپور اور یورپ سے وابستہ ادارے شامل ہیں۔

دوسری جانب ایرانی ذرائع نے امریکی اقدامات کو اقتصادی دباؤ کے بجائے نفسیاتی جنگ کا حصہ قرار دیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دباؤ بڑھانے کے اعلانات کا مقصد ایرانی عوام پر نفسیاتی دباؤ ڈالنا ہے اور عملی طور پر ان اقدامات سے کوئی بنیادی نئی صورتحال پیدا نہیں ہوگی۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ فوجی میدان میں اپنے مقاصد حاصل نہ کرسکنے کے بعد پابندیوں اور میڈیا مہم کے ذریعے دباؤ برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن کی نئی پابندیاں ایران کو اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کرسکیں گی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha