اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، معاریو کے خارجہ امور کے صحافی الی لیون نے اٹلانٹک کونسل کے ماہر میتھیو کرونگ کے حوالے سے لکھا کہ کسی ملک کی دفاعی صلاحیت کا انحصار اس کی فوجی طاقت اور اس طاقت کی ساکھ پر ہوتا ہے، جبکہ موجودہ صورتحال میں امریکا کے حریف اسے ماضی کے مقابلے میں فوجی اعتبار سے کمزور سمجھ رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، ایران کے ساتھ جنگ کے دوران امریکا نے اپنے اہم فوجی وسائل کا ایک حصہ استعمال کر لیا ہے۔ امریکی فضائی دفاعی نظام اور ایک طیارہ بردار بحری جہاز سمیت بعض اہم فوجی اثاثے بحرالکاہل سے مشرق وسطیٰ منتقل کیے گئے ہیں۔ دوسری جانب بعض یورپی اتحادیوں نے بھی روسی حملے کی صورت میں واشنگٹن کی جانب سے انہیں مکمل فوجی مدد فراہم کرنے کی صلاحیت پر سوالات اٹھائے ہیں۔
معاریو نے سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (CSIS) کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکا اپنے پیٹریاٹ اور تھاڈ میزائلوں سمیت تقریباً نصف انٹرسیپٹر میزائل استعمال کرچکا ہے، جبکہ ٹوماہاک اور JASSM کروز میزائلوں کے تقریباً ایک تہائی ذخائر بھی خرچ ہوچکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکا کے پاس اب تقریباً 800 پیٹریاٹ میزائل باقی ہیں۔
رپورٹ میں امریکی اور روسی اسلحہ سازی کی پیداواری صلاحیت کا موازنہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ لاک ہیڈ مارٹن نے گزشتہ سال 620 پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل فراہم کیے، جبکہ مغربی انٹیلی جنس اندازوں کے مطابق روس ہر ماہ 100 سے زائد بیلسٹک میزائل تیار کر رہا ہے۔
معاریو کے مطابق، اسلحے کے استعمال اور نئی پیداوار کے درمیان بڑھتا ہوا فرق امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے سنگین تزویراتی اثرات رکھتا ہے۔ یوکرین بدستور روسی میزائل حملوں کے لیے خطرے سے دوچار ہے، جبکہ خلیجی ممالک بھی ایران کے ساتھ ایک اور بڑے تنازع میں کودنے سے ہچکچا رہے ہیں کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ ان کے اہم انفراسٹرکچر کے دفاع کے لیے انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخائر ناکافی پڑ سکتے ہیں۔
رپورٹ میں بیلسٹک میزائلوں کو جغرافیائی سیاسی دباؤ کے اہم ہتھیار کے طور پر پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا گیا کہ ایران کی درست نشانہ لگانے کی صلاحیت رکھنے والے میزائلوں نے امریکی فوجی اڈوں کو نقصان پہنچایا ہے۔
معاریو نے مزید لکھا کہ امریکی محکمہ دفاع اسلحہ سازی کی پیداوار بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے پیٹریاٹ میزائلوں کی پیداوار تین گنا کرنے کے لیے 59 ارب ڈالر اور تھاڈ انٹرسیپٹرز کی پیداوار چار گنا کرنے کے لیے 35 ارب ڈالر کے معاہدے تجویز کیے گئے ہیں، تاہم ان منصوبوں کے لیے ابھی مکمل مالی وسائل فراہم نہیں کیے گئے۔
امریکی ہڈسن انسٹی ٹیوٹ کے سینیئر رکن لڈوِک ہڈ نے اس صورتحال کو مغرب کے لیے خطرے کی گھنٹی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ان ممالک کے لیے ایک ’’بیداری کا لمحہ‘‘ ہونا چاہیے جو گزشتہ برسوں میں جھوٹی سلامتی کے احساس میں مبتلا رہے۔
آپ کا تبصرہ