اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اسلاموفوبیا کے خلاف کام کرنے والی ایک تنظیم نے بتایا ہے کہ رواں سال کی پہلی ششماہی کے دوران لندن میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور امتیازی سلوک کے رپورٹ ہونے والے واقعات کی تعداد پورے 2023 کے مقابلے میں بڑھ گئی ہے۔
اسلاموفوبیا اور مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز واقعات کی نگرانی کرنے والی تنظیم تل ماما نے ان اعداد و شمار کو انتہائی تشویشناک قرار دیا ہے۔ تنظیم کے مطابق 2021 سے 2025 کے دوران برطانوی دارالحکومت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کے سالانہ واقعات میں تقریباً چھ گنا اضافہ ہوا ہے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ دستیاب اعداد و شمار مسلمانوں کے خلاف نفرت میں مسلسل اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں اور ہر رپورٹ کے پیچھے لندن میں رہنے والا ایک ایسا شخص موجود ہے جو صرف اپنے مذہب کی وجہ سے خود کو غیر محفوظ محسوس کرتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2021 میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور اسلاموفوبیا کے 313 واقعات رپورٹ ہوئے، جو 2022 میں دوگنے سے بھی زیادہ ہوکر 818 ہوگئے۔
اس کے بعد بھی واقعات میں ہر سال اضافہ جاری رہا اور گزشتہ سال یہ تعداد ریکارڈ 1909 تک پہنچ گئی۔
تل ماما کے مطابق رواں سال جنوری سے جون کے اختتام تک لندن میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور امتیازی سلوک کے 1031 واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں، جو پورے 2023 میں درج کیے گئے 1028 واقعات سے بھی زیادہ ہیں۔
آپ کا تبصرہ