بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اسلامی جمہوریہ ایران کی مذاکراتی ٹیم کے قریبی ایک ذمہ دار ذریعے نے وائٹ ہاؤس کے اس دعوے کے جواب میں، ـ کہ ایران کے ساتھ مذاکرات اگلی اطلاع تک منسوخ کر دیئے گئے ہیں، ـ زور دے کر کہا کہ بنیادی طور پر ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی براہِ راست مذاکرات جاری ہی نہیں تھے، کہ اب انہیں منسوخ کیا جا سکے۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے ایران کے ساتھ مذاکرات کے مزید اطلاع تک منسوخ کیے جانے کے دعوے کے بعد، ایرانی مذاکراتی ٹیم کے ایک قریبی ذمہ دار ذریعے نے فارس نیوز ایجنسی کے نامہ نگار سے گفتگو میں تاکید کی کہ بنیادی طور پر ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی براہِ راست مذاکرات جاری ہی نہیں تھے کہ اب انہیں منسوخ یا مؤخر کیا جا سکے۔
اس ذریعے نے وائٹ ہاؤس کی جانب سے اٹھائے گئے دعوے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: "آبنائے ہرمز پر حکمرانی کے نفاذ کے سلسلے میں گفتگو سلطنتِ عمان کے ساتھ کی گئی ہے۔"
انھوں نے مزید کہا: "امریکہ کی جانب سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کے بعد، امریکی فریق کے ساتھ گفتگو روک دی گئی تھی، اور حالیہ گفتگو بھی عمانی فریق کے ساتھ تھی، جس کا امریکہ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ