اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، دمشق کی چوتھی فوجداری عدالت نے وسیم الاسد کے خلاف مقدمے کی سماعت کے بعد اسے سزائے موت دینے کا فیصلہ کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ تحقیقات کے دوران اس کے خلاف پیش کیے گئے شواہد اور ثبوت قابلِ قبول ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مقدمے کی چھٹی سماعت آج جج فخرالدین العریان کی سربراہی میں ہوئی، جس میں عدالت نے وسیم الاسد کے خلاف مقدمے کی تفصیلات کا جائزہ لیا۔
جج نے بتایا کہ تحقیقات کے مطابق وسیم الاسد نے بریگیڈیئر غیاث دلا کی ہدایت پر سرکاری ڈھانچے سے باہر مسلح گروہوں کی تشکیل میں کردار ادا کیا۔ ان گروہوں پر مشرقی غوطہ کے شہری علاقوں کو نشانہ بنانے اور عام شہریوں کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
عدالت کے مطابق المیلیحہ بھی ان علاقوں میں شامل ہے جہاں مذکورہ مسلح گروہوں پر سنگین جرائم اور انسانی المیوں میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔
عدالت نے کہا کہ مقدمے کی تمام قانونی کارروائی مکمل کرنے اور تحقیقات میں پیش کیے گئے شواہد کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد وسیم الاسد کے بارے میں حتمی فیصلہ کیا گیا۔
آپ کا تبصرہ