18 اگست 2026 - 15:50
معاریو: اسرائیل سے ہجرت کی سونامی، لاکھوں لوگ واپس نہیں آ رہے

عبرانی اخبار معاریو نے مقبوضہ فلسطین سے اسرائیلیوں کے بڑھتے ہوئے انخلا کو ’’ہجرت کی سونامی‘‘ قرار دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ 2023 سے اب تک تقریباً 2 لاکھ 68 ہزار اسرائیلی طویل مدت کے لیے بیرونِ ملک منتقل ہوچکے ہیں، جبکہ واپس آنے والوں کی تعداد میں بھی نمایاں کمی ہوئی ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، کنیسٹ اور تل ابیب یونیورسٹی کی جانب سے جاری سرکاری اعداد و شمار اور مطالعات کے مطابق، 2023 کے آغاز سے اب تک تقریباً 2 لاکھ 68 ہزار اسرائیلی طویل مدت کے لیے مقبوضہ فلسطین سے بیرونِ ملک جا چکے ہیں۔

معاریو نے رپورٹ کیا کہ مقبوضہ فلسطین واپس آنے والے اسرائیلیوں کی تعداد بھی مسلسل کم ہوئی ہے۔ 2020 میں تقریباً 8 ہزار افراد واپس آئے تھے، جبکہ 2024 میں یہ تعداد کم ہو کر تقریباً 3 ہزار 800 رہ گئی، جو 53 فیصد کمی کو ظاہر کرتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2022 کے بعد طویل مدتی انخلا میں مزید تیزی آئی اور 2022 سے 2024 کے دوران اسرائیلیوں کی ہجرت کا خالص توازن منفی رہا، یعنی بیرونِ ملک جانے والوں کی تعداد واپس آنے والوں سے زیادہ رہی۔

معاریو کے مطابق 2024 اور 2025 میں واپس آنے والوں میں نصف سے زیادہ افراد برسرِ روزگار عمر کے تھے، جبکہ تقریباً 70 فیصد ایسے افراد تھے جو پانچ سال سے زیادہ عرصہ بیرونِ ملک رہنے کے بعد واپس آئے۔ ان میں تقریباً ایک تہائی افراد ایک دہائی یا اس سے بھی زیادہ عرصے کے بعد مقبوضہ فلسطین واپس پہنچے۔

اخبار نے بتایا کہ ان دو برسوں کے دوران واپس آنے والے ایک لاکھ 41 ہزار افراد میں سے تقریباً نصف شمالی امریکا سے آئے، جن میں 45 فیصد امریکا اور 5 فیصد کینیڈا سے تھے۔ تاہم امریکا سے واپس آنے والوں کی تعداد بھی 2020 کے تقریباً 3 ہزار 700 سے کم ہو کر 2024 میں صرف 1 ہزار 500 رہ گئی۔

معاریو نے اسرائیلیوں کی واپسی میں رکاوٹ بننے والے عوامل میں معاشی، سماجی اور انتظامی مسائل کا ذکر کیا ہے۔ ان میں نئے آنے والے تارکین وطن کے مقابلے میں واپس آنے والوں کے لیے محدود سہولیات، رہائش، ٹیکس اور تعلیم سے متعلق مشکلات اور مناسب آمدنی والی ملازمت کے حصول میں دشواریاں شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بیرونِ ملک طویل عرصہ قیام کرنے والے اور قومی بیمے کی ادائیگیاں روک دینے والے اسرائیلیوں کو سرکاری طبی سہولیات دوبارہ حاصل کرنے کے لیے چھ ماہ تک انتظار کرنا پڑ سکتا ہے، تاہم مقررہ رقم ادا کرکے یہ مدت کم کی جا سکتی ہے۔

معاریو نے سکیورٹی اور سماجی صورتحال کو بھی ان عوامل میں شامل کیا ہے جن کی وجہ سے بیرونِ ملک مقیم بعض اسرائیلی مقبوضہ فلسطین واپسی کو مؤخر یا منسوخ کر رہے ہیں۔

کنیسٹ کی امیگریشن، آبادکاری اور تارکینِ وطن سے متعلق کمیٹی کے سربراہ گلعاد کریو نے کہا کہ وہ اپنے عہدے کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد سے ’’ہجرت کی سونامی‘‘ کے خطرے سے خبردار کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے اس رجحان سے نمٹنے اور مختلف اداروں کے درمیان رابطے کے لیے ایک مخصوص ادارہ قائم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha