اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، کتائب سید الشہداء عراق کے سیکرٹری جنرل ابو آلاء الولائی نے ملک کی معاشی صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عراق کے وسائل اور دولت پر امریکی اثر و رسوخ موجود ہے اور حقیقی قومی خودمختاری کے لیے بغداد کو معاشی و مالی آزادی حاصل کرنا ہوگی۔
الولائی نے ایک بیان میں عراقی حاکمیت کو ’’نامکمل‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ خودمختاری کا مطلب صرف ملک کی سرزمین اور سرحدوں پر کنٹرول نہیں، بلکہ قومی وسائل، دولت اور اقتصادی و مالی معاملات کے بارے میں آزادانہ فیصلے کرنے کی صلاحیت بھی ہے۔
انہوں نے عراق کی معیشت میں امریکی اثر و رسوخ کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا عراقی عوام کو اپنی قومی دولت اس طرح استعمال کرنی چاہیے جیسے وہ کسی بیرونی طاقت کی طرف سے دی گئی امداد یا عطیہ ہو۔
الولائی کے مطابق عراق کے قدرتی وسائل اور قومی دولت عراقی عوام کا بنیادی اور خودمختار حق ہیں اور انہیں کسی غیر ملکی طاقت کی جانب سے دی گئی رعایت یا مدد کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
انہوں نے عراق کو امریکی مالی و اقتصادی اثرات سے آزاد کرنے، برآمدی منڈیوں میں تنوع پیدا کرنے اور مختلف ممالک کے ساتھ بینکاری روابط بڑھانے پر بھی زور دیا۔
الولائی نے کہا کہ بغداد کو ایسی خودمختار معیشت تشکیل دینی چاہیے جس میں ملکی وسائل، قومی دولت اور تجارتی راستوں سے متعلق اہم فیصلے عراقی ادارے اور عوام خود کریں۔
ان کے مطابق حقیقی حاکمیت صرف سرزمین پر اختیار رکھنے تک محدود نہیں بلکہ سیاسی، معاشی اور مالی خودمختاری بھی اس کے بنیادی ستون ہیں۔ جب تک کوئی بیرونی طاقت عراق کے وسائل اور اقتصادی فیصلوں پر فیصلہ کن اثر رکھتی ہے، اس وقت تک ملک کی حاکمیت کو مکمل قرار نہیں دیا جا سکتا۔
آپ کا تبصرہ