اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ’’ابراہم لنکن‘‘ ایران کے خلاف جنگ کے بعد 9 ماہ سے مشرقِ وسطیٰ میں تعینات ہے، جو معمول کی 6 ماہ کی تعیناتی سے کہیں زیادہ طویل مدت ہے۔
امریکی ٹی وی چینل سی بی ایس کے مطابق، جہاز پر تعینات ایک امریکی ملاح جیکسن کیلی کے والد جیفرسن کیلی نے اپنے بیٹے اور دیگر اہلکاروں کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فوجیوں کو اتنی طویل مدت کے لیے تعینات نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کے بقول یہ پرانے بحری جہاز ہیں جو جدید ٹیکنالوجی کے معیار پر بھی پورے نہیں اترتے اور انہیں مسلسل مرمت، دیکھ بھال اور دن رات سخت محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔
سی بی ایس کے مطابق ’’ابراہم لنکن‘‘ گزشتہ 9 ماہ سے سمندر میں موجود ہے، جبکہ اس طرح کے بحری جہاز کی معمول کی تعیناتی تقریباً 6 ماہ ہوتی ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ 8 ماہ کے دوران اس طیارہ بردار بحری جہاز سے جنگی طیاروں نے 10 ہزار سے زیادہ پروازیں کی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس دوران جہاز پر موجود تقریباً 5 ہزار ملاحوں اور میرینز کو ایرانی میزائلوں اور ڈرونز سے اپنا دفاع بھی کرنا پڑا۔
امریکی فوجیوں کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ جہاز کے اندر موجود حالات کے حوالے سے فکرمند ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ طویل تعیناتی اور کام کے شدید دباؤ سے اہلکاروں میں ذہنی صحت سے متعلق مسائل مزید بڑھ سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکی ملاحوں کے اہل خانہ نے ایک کشیدہ اجلاس میں امریکی بحریہ کے قائم مقام سربراہ ہانگ کاؤ کے سامنے اپنے خدشات براہِ راست پیش کیے۔ اہل خانہ نے امریکی حکام کو خطوط بھی ارسال کیے ہیں۔
جیفرسن کیلی نے بتایا کہ انہوں نے حکام کو بھیجے گئے پیغام میں اپنے بیٹے کو ہر ممکن طریقے سے واپس گھر بلانے کا مطالبہ کیا، حتیٰ کہ انہوں نے خود اپنے بیٹے کی جگہ اس مشن پر جانے کی پیشکش بھی کی۔
آپ کا تبصرہ