13 اگست 2026 - 17:14
ایکس نے یمنی مسلح افواج کے ترجمان یحییٰ سریع کا اکاؤنٹ معطل کردیا

سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس نے یمنی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر یحییٰ سریع کا باضابطہ اکاؤنٹ مکمل طور پر معطل کردیا ہے۔ بعض ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ اقدام سعودی حکام کی براہِ راست درخواست پر کیا گیا، تاہم اکاؤنٹ کی بندش کی سرکاری وجہ تاحال سامنے نہیں آئی۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ایلون مسک کی ملکیت سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس نے یمنی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر یحییٰ سریع کا باضابطہ اکاؤنٹ مکمل طور پر معطل کرکے صارفین کی رسائی سے باہر کردیا ہے۔

یمنی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایکس نے یمن کی انصار اللہ تحریک کے فوجی ترجمان کا اکاؤنٹ بھی حذف کردیا ہے۔ امریکا نے انصار اللہ کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے۔

سوشل میڈیا کارکنوں نے بتایا کہ یحییٰ سریع کا اکاؤنٹ، جو انصار اللہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے فوجی بیانات، بالخصوص اسرائیل اور بحیرۂ احمر میں ہونے والی کارروائیوں سے متعلق اعلانات کے باعث نمایاں تھا، اب دستیاب نہیں رہا۔

یحییٰ سریع کے اکاؤنٹ کو معطل کرنے کی سرکاری وجہ ابھی واضح نہیں کی گئی۔ تاہم بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اقدام انصار اللہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیے جانے سے متعلق پالیسی کے تحت کیا گیا ہوسکتا ہے اور مستقبل میں اس تحریک سے وابستہ دیگر اکاؤنٹس کو بھی نشانہ بنائے جانے کا امکان ہے۔

اس سے قبل بھی ایکس نے انصار اللہ کے سینیئر رہنما محمد البخیتی اور تحریک سے وابستہ بعض دیگر اہم شخصیات کے اکاؤنٹس سمیت ان کی میڈیا سرگرمیوں سے متعلق متعدد اکاؤنٹس کو معطل کیا تھا۔

دوسری جانب انصار اللہ سے وابستہ کارکنوں اور ذرائع ابلاغ نے اپنے ترجمان کا اکاؤنٹ بند کیے جانے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس اقدام کو ’’آوازیں دبانے‘‘ اور ’’آزادیٔ اظہار پر پابندی‘‘ قرار دیا ہے۔

بعض میڈیا ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ایکس کی جانب سے یہ اقدام سعودی حکام کی براہِ راست درخواست کے بعد کیا گیا۔ تاہم اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔

یحییٰ سریع کا اکاؤنٹ یمنی مسلح افواج کے فوجی بیانات، کارروائیوں سے متعلق رپورٹس اور علاقائی و فوجی صورتحال پر سرکاری مؤقف کی تشہیر کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا تھا اور عرب و بین الاقوامی صارفین کی بڑی تعداد اسے فالو کرتی تھی۔

اکاؤنٹ کی معطلی کے بعد سوشل میڈیا پر متعدد ردعمل سامنے آئے ہیں اور ناقدین نے اسے یمنی مسلح افواج کی سرکاری معلومات کی ترسیل محدود کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha