
اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق رہبر انقلاب حضرت حضرت آیت اللہ العظمی خامنہای نے حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی ولادت با سعادت "نرس ڈے" کے موقع پر ہزاروں ملک بھر کے ہزاروں مرد اور خاتون تیمارداروں (نرسوں) سے خطاب کرتے ہوئے مریضوں کی جسمانی اور روحانی سلامتی میں نرسوں کے کردار کی طرف اشارہ کیا اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا کو پوری تاریخ میں انسانوں کے لئے نمونۂ عمل قرار دیتے ہوئے فرمایا: ملت ایران کی قوت کا بنیادی عامل ان کا جوہر ایمانی ہے اور یہ ملت اللہ کے فضل سے تمام شعبوں میں ترقی کرے گی اور اپنے روزافزوں ایمان اور بصیرت کی برکت سے خطرات، دھونس دھمکیوں اور سازشوں پر غلبہ پالے گی۔ حضرت آیت اللہ العظمی خامنہای نے حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی ولادت با سعادت کی مناسبت سے مبارک باد پیش کرتے ہوئے انقلاب اسلامی پر سیدہ ثانی زہراء (س) کے تاریخی کردار کے اثرات اور انقلاب اسلامی کی قوت و عظمت میں ایمان و معنویت کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: جو چیز گذشتہ تیس برسوں کے دوران ملت ایران کی الہام بخشی کا باعث بنی ہے وہ حضرت زینب سلام اللہ سمیت دیگر دینی شخصیات کا کردار ہے اور ان عظیم کرداروں سے اثرپذیری ہی ملت ایران کی طاقت کا سرچشمہ ہے۔ آپ نے فرمایا: ملت ایران کی قوت و طاقت فوجی سازوسامان نہیں ہے گو کہ ہم نے دفاعی سازو سامان اور فوجی سافٹ ویئرز اور ہارڈوئیرز میں بھی تیز رفتار ترفی کی ہے لیکن ہمارے ملک و ملت کی قوت و عظمت کا اصل سرچشمہ جوہر ایمانی ہے؛ یہی وجہ ہے کہ ملت ایران نے تیس سالہ پابندیوں، فوجی حملوں اور سیاست اور سلامتی کے شعبوں میں خباثتوں کے باوجود کئی گنا ترقی کی ہے اور اس نے آگے کی سمت معمول سے کہیں زیادہ پیشرفت کی ہے۔ حضرت آیت اللہ العظمی خامنہای نے فرمایا: امریکی صدر کی طرف سے اشارتاً ایٹمی حملے کی دھمکی سے ملت ایران متأثر نہیں ہوگی تا ہم یہ دھمکی امریکہ کی سیاسی تاریخ میں ایک شرمناک باب اور امریکی انتظامیہ کی کارکردگی میں ایک سیاہ دھبے کی صورت میں ثبت ہوگی۔ آپ نے فرمایا: اس دھمکی نے امریکی حکام کی طرف سے "امن پسندی، انسان دوستی، ایٹمی معاہدوں کی پابندی اور ملت ایران کی طرف دوست کا ہاتھ بڑھانے" کی ظاہری نمائش کو بے نقاب کردیا۔ آپ نے فرمایا: ملت ایران کو ایٹمی حملے کی دھمکی در حقیقت امریکہ کے لومڑی والے لب و لہجے کو بھیڑیئے والے لب و لہجے میں بدل دیا ہے۔ حضرت آیت اللہ العظمی خامنہای فرمایا: امریکہ سمیت دنیا کی ایٹمی طاقتیں دنیا پر تسلط جمانے کے لئے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کے درپے ہیں اور کوئی بھی ایٹمی طاقت ایٹمی ہتھیاروں کے سلسلے میں بین الاقوامی معاہدوں پر عملدرآمد نہیں کرتی اور یہ طاقتیں دنیا کی آنکھوں کے سامنے جھوٹ بولتی ہیں لیکن جب دوسرے ممالک ایٹمی توانائی سے استفادہ کرنے کی جانب قدم اٹھاتے ہیں تو یہ طاقتیں انہیں بین الاقوامی معاہدوں کی عدم پابندی کا الزام عائد کرتی ہیں کیونکہ وہ اپنے سامنے کسی بھی حریف کی موجودگی برداشت نہیں کرسکتیں۔ آپ نے ایک بار پھر اسلامی جمہوریہ ایران کی اصولی پالیسی پر زور دیا اور فرمایا: ہم نے کئی بار کہا ہے کہ ہم وسیع تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے حصول کے درپے نہیں ہیں تاہم ملت ایران اس قسم کی دھمکیوں اور موٹی موٹی باتیں کرنے والوں کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کرے گی اور دھمکی دینے والوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرے گی۔ آپ نے فرمایا: بین الاقوامی اداروں کو ملت ایران کو، امریکی صدر کی ایٹمی دھمکی کے سامنے خاموش نہیں رہنا چاہئے؛ امریکی صدر کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ ملت ایران کو ایٹمی حملے کی دھمکی دیں؟ یہ دھمکی عالمی امن و سلامتی اور انسانیت کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے اور دنیا میں کسی کو بھی اپنے آپ کو اس طرح کی دھمکی دینی کی اجازت نہیں ہونی چاہئے؛ کسی کو یہ دھمکی زبان پر لانے کی جرأت نہیں ہونی چاہئے۔حضرت آیت اللہ العظمی خامنہای نے زور دے کر فرمایا: ملت ایران اس طرح کی دھمکیوں کے سامنے شکست ناپذیر ہے اور ہرگز امریکہ کو اس طرح کی دھمکیوں یا سازوسامان کے ذریعے ایک بار پھر ایران کے اوپر اپنا ہولناک جہنمی تسلط جمانے کی اجازت نہیں دے گی؛ ملت ایران دشمن کی خواہشات کے برخلاف، تمام میدانوں میں ترقی کرے گی ہمارے نوجوانوں اور ہماری قوم کا ایمان و بصیرت تمام دھمکیوں اور ـ گذشتہ سال رونما ہونے والی سازشوں کی طرح کے دسیسوں اور سازشوں پر غلبہ پائے گی۔
رہبر انقلاب اسلامی نے سیدہ ثانی زہراء سلام اللہ علیہا کی ولادت با سعادت کی مناسبت سے آپ (س) کی بے مثل شخصیت واقعۂ عاشورا اور اس کے تاریخی پیغام کی زندہ رہنے میں آپ (س) کے عظیم کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا: واقعۂ عاشورا میں تلوار پر خون کی فتح کا بنیادی سبب حضرت زینب (س) کا وجود اور کردار تھا اور آپ (س) نے اپنے عظیم کردار کے ذریعے ثابت کرکے دکھایا کہ خواتین تاریخ کے اہم واقعات کے قلب میں حاضر اور فعال ہیں... حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے زنانہ عفاف اور حجاب کو مجاہدانہ عظمت اور ایک عظیم جہاد میں تبدیل کیا اور اس حقیقت کی عمدہ مثال بازار کوفہ اور اس زمانے کے دشوار ترین حالات میں آپ (س) کا ناقابل فراموش خطبہ ہے؛ جس میں آپ (س) نے فصاحت و بلاغت کے ساتھ اسلامی معاشرے کی اس روز کی صورت حال کا نہایت غائرانہ تجزیہ پیش کرکے انقلاب نبوی (ص) اور انقلاب علوی (ع) کو درپیش خطرات اور آفتوں پر سے پردہ اٹھایا۔آپ نے سیدہ (س) کے خطبے کے بعض حصوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: سیدہ زینب (س) اس خطبے میں فرماتے ہیں کہ اس زمانے میں اسلامی معاشرے کا اصل مسئلہ انقلابیت کے دعویداروں کے سامنے اسلامی معاشرے کی عدم بصیرت اور حق و باطل کی عدم تشخیص سے عبارت تھا اور اس بے بصیرتی اور عدم تشخیص کا نتیجہ یہ ہوا کہ فرزند نبی (ص) کا سر نوک سناں پر نظر آیا۔ رہبر انقلاب اسلامی نے واقعہ عاشورا ـ اور عاشورا کے بعد کے برسوں میں ـ سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کا کردار تمام انسانوں، بالخصوص مسلم خواتین ـ کے لئے نمونہ عمل ہے؛ سیدہ (س) نے زنانہ حجب و حیاء اور عفت و پاکدامنی کو مُسلِمانہ اور مؤمنانہ عظمت کے ساتھ ملا کر عورت کے حقیقی مقام و عظمت کو نمایاں کردیا۔ حضرت آیت اللہ العظمی خامنہای نے عورت کو متعارف کرانے کے سلسلے میں فساد اور برائی کا شکار مغربی ماحول کی غلط روشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: مغربی دنیا کے نزدیک عورت کی عظمت یہی ہے کہ وہ حجاب اور پاکدامنی کو ترک کردے اور مردوں اور ہوس زدہ افراد کے سامنے جلوہ گری کرے حالانکہ یہ عورت کی تحقیر اور تذلیل ہے۔ آپ نے فرمایا: انقلاب اسلامی میں خواتین کا کردار زینبی کردار تھا اور خواتین نے انقلاب اسلامی اور دفاع مقدس میں اہم ترین اور عمدہ ترین کردار ادا کیا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے نی صحت و سلامتی کے حوالے سے تیمارداروں کی بھاری ذمہ داری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اس بھاری ذمہ داری کے ساتھ ساتھ نرسوں کے فرائض ـ خاص طور تیمارداری کے اخلاقی پہلو کی رعایت ـ بھی بہت اہم اور بھاری ذمہ داری ہے۔ حضرت آیت اللہ العظمی خامنہای نے مریضوں کی جسمانی اور روحانی تکالیف کو تسکین پہنچانے کے حوالے سے نرسوں کے کردار کی دشواری اور حساسیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: نرسوں کے فرائض کی حساسیت کے پیش نظر، مناسب ہوگا کہ نرسوں کے لئے اخلاقی منشور [ضابطۂ اخلاق] مرتب کیا جائے اور نرسوں کو اخلاقِ تیمارداری کی رعایت کے حوالے سے بھی تعلیم دی جائے۔ ................
/110