اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، مفتی جعفری لبنان شیخ احمد قبلان نے لبنانی حکومت کو ملک کی تاریخ کی خطرناک ترین حکومتوں میں شمار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکمران امریکا اور اسرائیل کو ایسی رعایتیں دے رہے ہیں جن کا وہ گزشتہ کئی دہائیوں سے خواب دیکھتے رہے ہیں۔
شیخ احمد قبلان نے کہا کہ لبنان اس وقت خونریزی کا شکار ہے، خطے کا ماحول کشیدگی اور آگ کی لپیٹ میں ہے، جبکہ ملکی خودمختاری کو مذاکرات کی میز پر رعایتوں کے ذریعے داؤ پر لگایا جا رہا ہے۔ ان کے بقول، حکومت مشکل مذاکرات اور بند دروازوں کی بات کرتی ہے، لیکن پردے کے پیچھے ایسے معاہدے سامنے آ رہے ہیں جن میں واشنگٹن اور تل ابیب کو غیر معمولی مراعات دی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ لبنان ایک ایسی حکومت کے بغیر رہ گیا ہے جو واضح قومی اور خودمختار ترجیحات رکھتی ہو۔ ان کے مطابق موجودہ حکمران ٹیم کو نہ قومی مفادات کی کوئی فکر ہے اور نہ ہی جنوبی لبنان اور وہاں کے عوام کی کوئی خاص اہمیت ہے۔
مفتی جعفری لبنان نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت درحقیقت سیاسی خلا کی نمائندگی کرتی ہے اور خطرناک بات یہ ہے کہ لبنان کے ساتھ ایسے برتاؤ کیا جا رہا ہے جیسے یہ ایک بے مالک ملک ہو۔ انہوں نے کہا کہ یہی صورتحال موجودہ حکومت سے ان کے اختلاف کی بنیادی وجہ ہے، کیونکہ ملک کو ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو قومی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کو ترجیح دے۔
شیخ احمد قبلان نے کہا کہ وہ لبنان اور خطے کے مستقبل کو مایوسی کی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔ ان کے بقول، وہ لبنان کی جڑوں سے وابستہ ہیں اور اس قومی قوت کا حصہ ہیں جس نے ایسے وقت میں ملک کو دوبارہ حاصل کیا جب خطے کی بیشتر قوتیں لبنان کو تنہا چھوڑ چکی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں رونما ہونے والی نئی تبدیلیاں، خصوصاً آبنائے ہرمز کی صورتحال، مشرقِ وسطیٰ اور لبنان کے لیے نئے علاقائی توازن کی بنیاد رکھ رہی ہیں۔ ان کے مطابق نئے علاقائی حالات میں لبنان اپنا علاقائی مقام دوبارہ حاصل کرے گا اور ملک کو درپیش سیاسی خلا کے بحران سے نکلنے کی راہ ہموار ہوگی۔
مفتی جعفری لبنان نے مزید کہا کہ مزاحمت کی شجاعت، قربانیوں اور اس کی جانب سے ادا کی جانے والی اسٹریٹجک قیمت کے باعث ’’اسرائیل بزرگ‘‘ کا منصوبہ اپنی عملی صلاحیت کھو چکا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ اب لبنان کو سیاسی بصیرت کے بحران اور تسلیم و پسپائی کی سیاست سے محفوظ رکھنے کا وقت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک ایسی حکومت سے دوچار ہے جو مؤثر طور پر حکمرانی نہیں کر رہی اور اس کی حکمرانی کا دائرہ صرف ان رعایتوں تک محدود ہو گیا ہے جو وہ قومی خودمختاری کے میدان میں دینے پر آمادہ ہے۔
شیخ احمد قبلان نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ اس حکومت کو اس وقت سب سے خطرناک حکومت قرار دے گی جب کوئی حکومت اپنے عوام کو یہ باور کرانے لگے کہ قومی، خودمختار اور سلامتی سے متعلق رعایتیں ہی ملک کی سلامتی کی قیمت ہیں۔
آپ کا تبصرہ