اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، یمن کی مستعفی حکومت کے فوجی ترجمان نے کہا کہ انصاراللہ کے جنگجوؤں نے ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق مستعفی حکومت کے فوجی ترجمان نے دعویٰ کیا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے حوثیوں کی جانب سے داغے گئے ڈرونز کی نئی لہر کا المخا کی فضا میں مقابلہ کیا۔
مستعفی حکومت کے ایک فوجی عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ فضائی دفاعی نظام نے انصاراللہ کے 6 ڈرونز مار گرائے، جن کے بارے میں کہا گیا تھا کہ انہیں المخا کو نشانہ بنانے کے لیے بھیجا گیا تھا۔
مذکورہ عہدیدار کے مطابق انصاراللہ نے المخا کی جانب 2 بیلسٹک میزائل بھی داغے، تاہم دونوں میزائل سمندر میں جا گرے۔
اس سے چند گھنٹے قبل یمن کے ایک فوجی عہدیدار نے خبر رساں ادارے سبا سے گفتگو کرتے ہوئے زیر قبضہ علاقوں میں مقیم یمنی شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی جانوں کے تحفظ کے لیے سعودی فوجیوں کے اجتماع اور اسلحہ گوداموں سے دور رہیں۔
انہوں نے شہریوں سے یہ بھی کہا کہ وہ فوجی اسلحہ گوداموں اور کمانڈ مراکز کو شہری تنصیبات کے اندر منتقل کرنے کی کوششوں کو روکنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
یمنی فوجی عہدیدار نے سعودی عرب کو شہری تنصیبات کو فوجی اڈوں اور اسلحہ گوداموں میں تبدیل کرنے کا مکمل ذمہ دار قرار دیا۔
یہ چند گھنٹوں کے دوران صوبہ تعز کے علاقے المخا میں یمن کی مستعفی حکومت کی فوج کے ٹھکانوں پر انصاراللہ کا دوسرا حملہ ہے۔
یمنی مسلح افواج نے اتوار کی شب بھی المخا بندرگاہ کے گھاٹ کو ایک بارودی مواد سے لدی کشتی کے ذریعے نشانہ بنایا تھا۔
رپورٹ کے مطابق چند گھنٹے قبل المخا میں یمنی مسلح افواج کے حملے کے نتیجے میں سعودی فوج کے 7 اہلکار ہلاک اور 35 زخمی ہوئے۔
صنعا کی حکومت نے اعلان کیا کہ المخا میں سعودی فوجیوں کے اجتماع کو نشانہ بنانے کے لیے یمنی مسلح افواج کی کارروائی انتہائی کامیاب رہی اور تمام مطلوبہ اہداف کو درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا۔
آپ کا تبصرہ