اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، صہیونی ٹی وی چینل 13 نے غزہ، لبنان اور ایران میں جاری تنازعات کے خاتمے کے طریقہ کار پر تل ابیب اور واشنگٹن کے درمیان بڑھتے اختلافات کی خبر دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ ان تینوں محاذوں کو بند کرنے کے لیے اپنے دباؤ میں اضافہ کر رہا ہے۔
صہیونی چینل نے سیاسی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے سربراہ بریڈ کوپر نے حالیہ دورۂ مقبوضہ فلسطین کے دوران صہیونی حکام کو واشنگٹن کا یہ پیغام پہنچایا کہ تینوں محاذوں کو بند کرنے کی سمت پیش رفت ضروری ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکہ جنوبی لبنان کے بعض علاقوں میں قائم بفر زون سے صہیونی فوجیوں کے مزید انخلا، غزہ میں جاری صورتحال میں پیش رفت اور اس علاقے میں ایک کثیر القومی فوج تعینات کرنے کا خواہاں ہے۔ اس وقت اس بین الاقوامی فورس میں مراکش اور یوگنڈا کے سینکڑوں فوجی شامل ہیں۔
دوسری جانب صہیونی فوجی حکام نے امریکی فریق کو بتایا ہے کہ اگر ایران اپنے جوہری پروگرام کو آگے بڑھاتا ہے یا اپنی بیلسٹک میزائل صلاحیت دوبارہ بحال کرتا ہے تو تل ابیب ایران کے خلاف کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
صہیونی سکیورٹی حکام نے غزہ میں ہدف بنا کر قتل کی کارروائیاں روکنے اور فوجی آپریشن محدود کرنے سے متعلق واشنگٹن کے مطالبات پر بھی اعتراض کیا ہے۔
یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ رابطوں کے جاری رہنے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ نئی فوجی کارروائی کا حکم دینے کے بجائے تہران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کو ترجیح دیتے ہیں۔
ٹرمپ نے امریکی ویب سائٹ ’’آکسیوس‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکی حکومت ایران کے ساتھ ’’پُرسکون انداز‘‘ میں پیش آ رہی ہے اور ساتھ ہی ایران میں ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
اگرچہ واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان اختلافات کو صہیونی ذرائع ابلاغ میں نمایاں کیا جا رہا ہے، تاہم بعض مبصرین ان اختلافات کو حقیقی اور تزویراتی اختلاف کے بجائے حکمتِ عملی کی سطح پر محدود اختلاف اور عوامی رائے کو متاثر کرنے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق دونوں جانب سیاسی اور فوجی تعاون کا مسلسل جاری رہنا اس مؤقف کی تائید کرتا ہے۔
آپ کا تبصرہ