اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، تحریک امل نے کہا ہے کہ صہیونی حکومت کی جانب سے نیحا کی پہاڑیوں سے کفرحونہ اور بقاع غربی کے متعدد پہاڑی علاقوں تک ماحولیات کو نقصان پہنچانے اور آگ لگانے کے واقعات کے بعد لبنانی حکومت کو چاہیے کہ وہ متعلقہ بین الاقوامی اداروں اور تنظیموں میں باضابطہ شکایات درج کرائے اور متعلقہ سفارت خانوں کو بھی اس صورتحال سے آگاہ کرے۔
تحریک امل نے مطالبہ کیا کہ صہیونی جارحیت اور اس کے نتیجے میں ہونے والے ماحولیاتی نقصانات کو مکمل طور پر دستاویزی شکل دی جائے تاکہ ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانے کی راہ ہموار ہو اور یہ جارحیت کسی جواب دہی کے بغیر نہ گزر سکے۔
تحریک امل کے مطابق دستیاب اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذکورہ علاقوں میں آگ اسرائیلی ڈرونز کی جانب سے داغے گئے گولوں کے نتیجے میں لگی۔ اس معاملے کو محض ایک عارضی واقعہ قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، بلکہ یہ ماحولیات، جنگلات اور زرعی اراضی کے خلاف جارحیت ہے، جس کی فوری اور جامع تحقیقات اور ضروری قانونی اقدامات ناگزیر ہیں۔
تحریک امل نے اس پالیسی کی بھی مخالفت کی جس کے تحت اسرائیل نشانہ بنائے گئے علاقوں کو ’’جلی ہوئی زمین‘‘ میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تحریک کے مطابق اس پالیسی سے جنگلات اور قدرتی سبزہ تباہ، ماحولیات کو نقصان اور مقامی آبادیوں کو خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ لبنان کا ماحول تباہی کے لیے کھلا میدان نہیں اور زمین و جنگلاتی وسائل کا تحفظ قومی اور بین الاقوامی ذمہ داری ہے۔
تحریک امل نے مزید کہا کہ صرف آگ بجھانا کافی نہیں، بلکہ اس کے ذمہ داروں کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے، نقصانات کا ریکارڈ مرتب کرکے ذمہ دار افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ آگ کو مزید پھیلنے سے روکنے اور علاقے کے باقی ماندہ جنگلاتی وسائل کو محفوظ بنانے کے لیے تمام ضروری وسائل فراہم کیے جائیں۔
تحریک امل نے آگ پر قابو پانے کے لیے لبنانی فوج، سکیورٹی فورسز اور شہری دفاع کے اہلکاروں کی وسیع کوششوں کو سراہتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ایسے دشوار گزار علاقوں تک رسائی کے لیے زمینی اور فضائی آگ بجھانے کے آلات فراہم کیے جائیں جہاں گاڑیوں اور دیگر زمینی آلات کا پہنچنا ممکن نہیں۔
آپ کا تبصرہ