اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، دستیاب اطلاعات کے مطابق حریر اڈے پر تعینات امریکی انجینئرنگ اور تکنیکی یونٹس نے لاجسٹک مراکز کو خالی کرنے کا عمل شروع کردیا ہے، جن میں اڈے کے مشرقی حصے میں واقع بڑا معاون مرکز بھی شامل ہے۔
اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی فوجی اور سازوسامان کی منتقلی اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے اور واشنگٹن اس اڈے پر موجود اپنی فوجی تنصیبات اور رسدی ڈھانچے کو بھی سمیٹ رہا ہے۔
باخبر ذرائع کے مطابق لاجسٹک مراکز کا انخلا حریر اڈے سے امریکی افواج کی واپسی کے اختتامی مرحلے سے ایک قدم پہلے کی حیثیت رکھتا ہے اور طے شدہ منصوبے پر عمل درآمد کی صورت میں ستمبر کے اختتام تک یہ اڈہ مکمل طور پر امریکی فوجی موجودگی سے خالی ہوجائے گا۔
ذرائع کے مطابق حریر میں پہلے سے تعینات امریکی فوجی صلاحیتوں اور سازوسامان کا بڑا حصہ وسیع تر منتقلی کے منصوبے کے تحت شام اور ترکی میں موجود امریکی اڈوں کی جانب منتقل کیا جاچکا ہے۔
حریر اڈہ گزشتہ برسوں کے دوران عراق کے کردستان خطے میں امریکی فوجی موجودگی کے اہم مراکز میں شمار ہوتا رہا ہے۔ اس اڈے سے مکمل امریکی انخلا خطے میں واشنگٹن کی فوجی موجودگی کے نقشے میں ایک اہم تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے۔
تاہم شام اور ترکی منتقل کیے جانے والے امریکی فوجیوں اور فوجی سازوسامان کی تعداد اور ان کی نئی تعیناتی کا طریقہ کار اہم عوامل ہیں جو خطے میں امریکی فوجی موجودگی کے اگلے مرحلے کی نوعیت کا تعین کرسکتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ