متاثرین کے کیمپ میں ہونے والے دونوں دھماکے خودکش اور حملہ آوروں کا ہدف کیمپ میں مقیم اورکزئی ایجنسی سے تعلق رکھنے ملت جعفریہ کے افراد تھے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق کچا پکا متاثرین کیمپ میں پہلا دھماکا اس وقت ہوا جب متاثرین راشن کے حصول کیلے صفوں میں کھڑے تھے جبکہ دوسرا دھماکہ اس وقت ہوا جب امدادی کارروائیوں کیلے لوگ جائے وقوعہ پر جمع ہوئے۔
دوسرے دھماکے میں زیادہ جانی نقصان ہوا جبکہ دوسرے دھماکے کے بعد کیمپ کے باہر تیسرے دھماکے کی آواز بھی سنی گئی ہے تاہم اس میں کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ، نمائندے کے مطابق دھماکوں کے بعد کیمپ کے اطراف میں شدید فائرنگ بھی کی گئی ، امدادی سرگرمیاں جاری ہیں اور زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال کوہاٹ منتقل کیا گیا ہے تاہم کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے جس سے شہداء کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے ۔
کوہاٹ کے اسپتالوں میں دھماکے کے بعد ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔
سیکورٹی فورسز نے معمول کی مطابق "دھماکے کے بعد" علاقے کو سیل کردیا ہے اور امدادی کارکنان کے علاوہ کسی کو بھی جائے وقوعہ پر جانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔
۔۔۔۔۔
/110