22 جولائی 2026 - 16:04
مصر میں عقیدتی قیدیوں کے مقدمات پر نظرثانی کا مطالبہ

مصر کے انسانی حقوق کے وکلا اور کارکنوں نے قومی انسانی حقوق کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ عقیدتی قیدیوں کی صورتحال کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے، طویل عرصے تک جاری عارضی حراست کا خاتمہ کیا جائے اور قیدیوں کو علاج کی مناسب سہولتیں فراہم کی جائیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، مصر کے انسانی حقوق کے وکلا اور عقیدتی قیدیوں کے دفاع کے لیے قائم کمیٹی کے ارکان نے قومی انسانی حقوق کونسل کے نائب چیئرمین انور السادات سے ملاقات کرکے ایک یادداشت پیش کی، جس میں سیاسی اور عقیدتی قیدیوں کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

یادداشت میں کہا گیا ہے کہ کئی قیدیوں کو طویل عرصے سے عارضی حراست میں رکھا جا رہا ہے۔ مزید یہ کہ بعض قیدیوں کی حراست کی مدت ختم ہونے پر ان کے خلاف نئے مقدمات درج کرکے انہیں دوبارہ جیل بھیج دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ متعدد قیدیوں کو ضروری طبی سہولتیں بھی فراہم نہیں کی جا رہیں۔

وفد نے محمد عادل اور شادی محمد سمیت کئی قیدیوں کے مقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے اس عمل کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا، جس کے تحت ایک مقدمہ ختم ہونے کے بعد نیا مقدمہ قائم کرکے قیدی کی حراست کو مسلسل بڑھایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عارضی حراست صرف غیر معمولی حالات میں استعمال ہونی چاہیے، اسے مستقل سزا کا ذریعہ نہیں بنایا جانا چاہیے، جبکہ تمام قیدیوں کو علاج معالجے کا بنیادی حق بھی حاصل ہونا چاہیے۔

دوسری جانب محمد عادل کی اہلیہ رفیدہ حمدی نے صدرِ مصر سے معافی کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ان کے شوہر کئی برسوں سے مختلف مقدمات کے باعث جیل اور عدالتی پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں، جس سے ان کے خاندان کی زندگی شدید متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ انسانی بنیادوں پر محمد عادل کو رہا کرکے انہیں اپنے اہل خانہ کے پاس واپس آنے کا موقع دیا جائے۔

ادھر معروف مزدور رہنما محمد زہران کے بیٹے نے صدر عبدالفتاح السیسی کے نام ایک کھلا خط لکھ کر اپنے والد کے مقدمے میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر نظرثانی کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے والد نے ہمیشہ اساتذہ کے حقوق کے لیے قانونی اور پرامن طریقہ اختیار کیا ہے، اس لیے امید ہے کہ حکام انسانی ہمدردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کی رہائی کی راہ ہموار کریں گے۔

واضح رہے کہ محمد زہران کو گزشتہ ہفتے مصر کی ریاستی سیکیورٹی پراسیکیوشن نے "جھوٹی خبریں پھیلانے" کے الزام میں 15 روزہ جسمانی ریمانڈ پر بھیج دیا تھا۔ یہ الزام اس وقت عائد کیا گیا جب انہوں نے اساتذہ سے اپنی یونین کے انتخابات سے متعلق عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے قانونی جدوجہد جاری رکھنے کی اپیل کی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha