اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، جامعہ مدرسین حوزۂ علمیہ قم نے رہبرِ انقلاب کے اس پیغام کی حمایت میں ایک بیان جاری کیا ہے جس میں رہبرِ شہید کے قاتلوں سے قصاص اور انتقام کی حتمیت پر زور دیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ رہبرِ انقلاب حضرت آیت اللہ سید مجتبی حسینی خامنہ ای (مدظلہ العالی) کا گہرا، حکمت آمیز اور دشمن شکن پیغام، جس میں ایران اور عراق میں رہبرِ شہید انقلاب اسلامی کی تشییع میں شریک عوام کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا اور رہبرِ شہید کے قاتلوں سے قصاص کی ضرورت پر زور دیا گیا، اسلامی معارف کے ایک نئے باب کو واضح کرتا ہے اور "یا لثارات الامام" کے روشن راستے پر گامزن ہونے کی ضرورت اجاگر کرتا ہے۔
جامعہ مدرسین نے اپنے بیان میں رہبرِ انقلاب کے ساتھ تجدیدِ عہد و بیعت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان کے احکامات امت کے لیے فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں۔ بیان میں زور دیا گیا کہ رہبرِ شہید کے خون کا بدلہ لینے کے معاملے میں کسی بھی قسم کی دنیاوی مصلحت اندیشی یا رہبرِ انقلاب کے حکم کے دائرے کو محدود کرنے کی کوشش، عوامی ارادے کی مخالفت اور قیادت کے فرمان سے انحراف ہے۔
بیان میں سیاسی، سفارتی اور عدالتی حکام سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ امتِ مسلمہ کے حقِ قصاص اور خون خواہی کے مختلف پہلوؤں کو بین الاقوامی فورمز اور عالمی رائے عامہ کے سامنے مؤثر انداز میں پیش کریں اور استکباری قوتوں کو میڈیا اور پروپیگنڈے کے ذریعے ظالم اور مظلوم کی حقیقت کو مسخ کرنے کا موقع نہ دیں۔
جامعہ مدرسین نے مزید کہا کہ خونِ شہداء کا بدلہ لینے کے دینی فریضے کی ادائیگی بے شمار ظاہری اور باطنی برکات کی حامل ہے، لہٰذا دنیا بھر کے آزاد انسانوں کو اس الٰہی ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے آمادہ رہنا چاہیے۔
بیان کے اختتام پر دعا کی گئی کہ اللہ تعالیٰ حضرت ولی عصرؑ کے فیوض و برکات کے صدقے امتِ مسلمہ کو جلد فتح و نصرت عطا فرمائے اور مجرم قاتل اپنے جرائم کی قرار واقعی سزا پائیں۔
آپ کا تبصرہ