6 جولائی 2026 - 23:13
محبت اہل‌بیت(ع) عالم اسلام میں سب سے مضبوط جذباتی اور معنوی پیوند ہے/ اربعین حسینی؛ امت اسلامی کے اتحاد کا مظہر، ڈاکٹر وقاص بخاری

پاکستان میں جامعہ منہاج لاہور کے ایسوسی ایٹ پروفیسر، ڈاکٹر سید وقاص حیدر بخاری نے ابنا نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے ایران اور پاکستان کے درمیان علمی اور جامعاتی تعاون کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے ان تعلقات کے امکانات، مواقع اور درپیش چیلنجوں کا تجزیہ کیا۔

بین‌الاقوامی خبررساں ایجنسی اہل‌بیت(ع) ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں جامعہ منہاج لاہور کے ایسوسی ایٹ پروفیسر، ڈاکٹر سید وقاص حیدر بخاری نے نے مصنوعی ذہانت، موسمی تبدیلی، توانائی، علاقائی تجارت اور اسٹراٹیجک تحقیقات جیسے شعبوں میں مشترکہ تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا اور پاکستان میں شیعہ اور سنی تعلقات کی صورتحال اور اسلامی ہم آہنگی کو مضبوط کرنے میں اس کے کردار کی وضاحت کی۔

اس انٹرویو کا خلاصہ درج ذیل ہے:

پاکستان کی معروف جامعہ منہاج لاہور کے استاد ڈاکٹر سید وقاص حیدر بخاری نے ایران و پاکستان کے علمی و سائنسی تعاون، شیعہ سنی ہم آہنگی، اور اہلِ بیت (ع) سے محبت کے موضوع پر ایک جامع اور گہرے گفتگو میں متعدد اہم نکات بیان کیے۔

ایران و پاکستان کے علمی تعاون کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور مذہبی اشتراک کے باوجود علمی تعاون اپنی حقیقی حد تک نہیں پہنچا۔

انھوں نے مصنوعی ذہانت، موسمی تبدیلی، توانائی، علاقائی تجارت اور اسٹرٹیجک سائنسز میں مشترکہ منصوبوں پر زور دیا۔

انھوں نے بجٹ کی کمی، ویزا مشکلات، اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی جیسی رکاوٹوں کا تذکرہ کرتے ہوئے ادارہ جاتی تعلقات مضبوط کرنے، مشترکہ تحقیقی گرانٹس، اور دو طرفہ مطالعاتی مراکز قائم کرنے کی تجویز دی۔

پاکستان میں شیعہ سنی تعلقات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ میڈیا کی منفی رپورٹوں اور بیانیوں کے برعکس، پاکستانی معاشرے میں شیعہ اور سنی مکاتب فکر کا باہمی ربط گہرا اور تاریخی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کبھی کبھار تناؤ سیاسی اور بیرونی عوامل کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے اور اسے اعتقادی قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ یہ سیاسی ہے۔

ان کے مطابق، پاکستانی عوام کی اکثریت فرقہ وارانہ تشدد کو مسترد کرتی ہے اور وحدت، رواداری اور ہم آہنگی کو ترجیح دیتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اہلِ بیت(ع) سے محبت اہلِ سنت پاکستان کے دلوں کی اتہاہ گہرائیوں میں جاری و ساری ہے؛ اور یہ محبت صرف جذباتی نہیں، بلکہ اسلامی شناخت کا حصہ ہے۔

ان کے کہنے کے مطابق، محرم الحرام کے موقع پر اس محبت کا اظہار مجالس، مرثیہ نگاری، عزاداری اور خیراتی کاموں کے ذریعے ہوتا ہے۔

انھوں نے کربلا کے پیغام کو عدل، ایثار، صبر اور ظلم کے خلاف مزاحمت کی عالمگیر علامت قرار دیا۔

انھوں نے اربعین حسینی کو وحدت اسلامی کا مظہرِ عظیم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اجتماع نسلی، مذہبی اور قومی حدود کو مٹا دیتا ہے؛ یہ صرف زیارت نہیں، بلکہ انسانیت، ایثار، اور مہمان نوازی کی ثقافت کا عملی مظاہرہ ہے۔

انہوں نے اربعین کو گفتگو، رواداری اور پرامن بقائے باہمی کا موثر پلیٹ فارم قرار دیا۔

آخر میں انھوں نے زور دیا کہ محبتِ اہلِ بیت(ع) اور اربعین کا اجتماع عالمِ اسلام کے لئے وحدت، ہم آہنگی اور اجتماعی شناخت کو فروغ دینے کا سب سے مضبوط ذریعہ ہے، بشرطیکہ انہیں حکمت، اعتدال اور باہمی احترام کے ساتھ آگے بڑھایا جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha