اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، متعدد عراقی ماہرین نے نیوز ویب سائٹ العہد سے گفتگو میں کہا کہ 2003ء کے صدارتی ایگزیکٹو آرڈر کی بنیاد پر عراق سے متعلق ہنگامی حالت میں توسیع امریکی صدر کو عراق کے اثاثوں کے تحفظ، پابندیاں عائد کرنے، عراقی افراد اور اداروں کے اثاثے منجمد کرنے اور عراق میں واشنگٹن کے سیاسی و اقتصادی اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کے وسیع اختیارات فراہم کرتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ درحقیقت امریکہ کے مفادات کے تحفظ اور عراقی حکومت و سیاسی قوتوں پر دباؤ برقرار رکھنے کا ایک ذریعہ ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی تنقید کی کہ عراق کی تیل کی آمدنی اب بھی فیڈرل ریزرو بینک آف نیویارک میں جمع کرائی جاتی ہے۔ ان کے بقول یہ صورت حال بغداد کی مالی اور اقتصادی خودمختاری کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے، جبکہ عراق کا مالیاتی نظام امریکی فیصلوں پر انحصار کی وجہ سے ملکی معیشت اور عوام کی زندگی بھی متاثر ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں زرِ مبادلہ کی شرح میں اضافہ اور نقدی کے مسائل مزید سنگین ہوئے ہیں۔
دوسری جانب بعض تجزیہ کاروں نے کہا کہ یہ نظام 2003ء سے نافذ ہے، اس لیے عراق کو مکمل اقتصادی خودمختاری حاصل کرنے کے لیے اپنے مالی اور بینکاری ڈھانچے میں بنیادی اصلاحات کرنا ہوں گی۔ ان کے مطابق مالیاتی اداروں کو مضبوط بنانا، بین الاقوامی اعتماد میں اضافہ کرنا اور قومی وسائل کا آزادانہ انتظام ہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے عراق غیر معمولی امریکی اقدامات پر انحصار ختم کر کے حقیقی مالی خودمختاری حاصل کر سکتا ہے۔
آپ کا تبصرہ