اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، فلسطینی مزاحمتی گروپوں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی حکومت کی غزہ کے خلاف ایک ہزار روز سے جاری جنگ، جسے امریکہ اور بعض مغربی ممالک کی براہِ راست حمایت حاصل رہی، اپنے اعلان کردہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے، جن میں فلسطینیوں کی جبری بے دخلی بھی شامل ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ وسیع پیمانے پر تباہی اور سنگین انسانی بحران کے باوجود فلسطینی عوام کے عزم اور جذبۂ مزاحمت میں کوئی کمی نہیں آئی، بلکہ ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کی تمام کوششوں نے مزاحمت کو مزید مضبوط کیا ہے۔
مزاحمتی گروپوں نے فلسطینی عوام کے قابض قوت کے خلاف مزاحمت کے جائز حق پر زور دیتے ہوئے مغربی کنارے، مقبوضہ القدس اور 1948ء کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں مزاحمت کو مزید تیز کرنے کا مطالبہ کیا۔
بیان میں غزہ پر کسی بھی قسم کی بیرونی سرپرستی یا مداخلت کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ غزہ کا انتظام صرف فلسطینیوں کا داخلی معاملہ ہے۔ گروپوں نے ٹیکنوکریٹ انتظامی کمیٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ جلد از جلد غزہ میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالے، جبکہ سیاسی اتحاد، قومی اداروں کی بحالی اور فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) کو مضبوط بنانے کے لیے جامع قومی مذاکرات شروع کیے جائیں۔
بیان کے اختتام پر عرب اور اسلامی ممالک سے اپیل کی گئی کہ وہ اپنی تمام سیاسی اور سفارتی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مکمل جنگ بندی کے قیام، اسرائیلی حکومت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی کوششوں کی مخالفت اور فلسطینی کاز کی حمایت کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔ مزاحمتی گروپوں نے فلسطینی شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیاں آنے والی نسلوں اور دنیا بھر کے آزادی پسندوں کے لیے مشعلِ راہ رہیں گی۔
آپ کا تبصرہ