اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لیبیا کی صدارتی کونسل نے اتوار کے روز انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ حسین العایب کو عہدے سے برطرف کرکے عبدالمجید ملیقطہ کو ان کا جانشین مقرر کر دیا۔
تاہم صدارتی کونسل کے نائب صدر موسی الکونی نے فوری طور پر اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام کونسل کے تمام اراکین کے اتفاقِ رائے یا قانونی منظوری کے بغیر کیا گیا، اس لیے اسے جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔
انہوں نے ایک بیان میں اس دعوے کی بھی تردید کی کہ وہ کونسل کے اجلاس میں شریک نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پہلے سے دی گئی دعوت کے مطابق ویڈیو کانفرنس کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے تھے۔
موسی الکونی نے بتایا کہ اجلاس کے دوران انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ اور مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف کی تقرری سے متعلق تجاویز پیش کی گئیں، تاہم ان پر اصرار کے باوجود کسی بھی تجویز پر اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ دعویٰ درست نہیں کہ اجلاس کے اختتام پر اجتماعی فیصلے کیے گئے تھے۔ ان کے بقول، کونسل کے نام سے ایسے فیصلوں پر مشتمل بیان جاری کرنا جن کی منظوری کونسل نے نہیں دی، ادارہ جاتی ذمہ داریوں کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اس سے عوام میں بے چینی اور غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس طرزِ عمل سے صدارتی کونسل کی ساکھ متاثر ہوگی اور ریاستی اداروں پر عوام کا اعتماد مزید کمزور پڑے گا۔
دوسری جانب لیبیا کی پارلیمنٹ کے اسپیکر عقیلہ صالح نے اپنے بیان میں زور دیا کہ سیکیورٹی اور ریاستی اداروں کو سیاسی اختلافات سے دور رکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق ایسے حساس وقت میں اس معاملے کو چھیڑنا صرف بحران کو مزید سنگین بنائے گا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ریاستی اداروں کے بارے میں جاری اختلافات نئے سیاسی بحرانوں کو جنم دیں گے اور موجودہ کشیدگی کو مزید گہرا کریں گے، جس سے ریاستی اداروں کے اتحاد اور انتخابات کے انعقاد کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی سیاسی کوششیں بھی متاثر ہوں گی۔
واضح رہے کہ لیبیا گزشتہ کئی برسوں سے سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے۔ 2011 کے بعد سے ملک شدید سیاسی تقسیم کا سامنا کر رہا ہے، جہاں مغربی شہر طرابلس میں عبدالحمید الدبیبہ کی قیادت میں قائم حکومتِ وحدتِ ملی اور مشرقی شہر بنغازی میں پارلیمنٹ کی حمایت یافتہ اسامہ حماد کی حکومت مختلف علاقوں پر اپنی حکمرانی کا دعویٰ کرتی ہیں۔
آپ کا تبصرہ