اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عراقی سکیورٹی فورسز نے مالی بدعنوانی کے ایک بڑے مقدمے میں بغداد اور ملک کے دیگر علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے متعدد سرکاری عہدیداروں، سیاست دانوں اور موجودہ و سابق ارکان پارلیمنٹ کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ کارروائیاں سابق نائب وزیرِ تیل عدنان الجمیلی سے منسوب مالی بدعنوانی کے مقدمے کے سلسلے میں کی گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پیر کی علی الصبح انسداد دہشت گردی فورس اور خصوصی سکیورٹی یونٹوں نے بغداد کے گرین زون کا محاصرہ کر کے اس کے داخلی راستے بند کر دیے، جس کے بعد مختلف مقامات پر چھاپے مارے گئے۔ کارروائیاں گرین زون کے علاوہ الیرموک، المنصور، القادسیہ، الشعب، زیونہ اور صدر سٹی سمیت صوبہ بابل اور میسان میں بھی کی گئیں۔
عراقی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ گرفتاریاں عدلیہ کے احکامات پر کی گئیں اور ان کی بنیاد عدنان الجمیلی کے بیانات کو بنایا گیا ہے۔ گرفتار ہونے والوں میں ایسے موجودہ ارکان پارلیمنٹ بھی شامل ہیں جن کی پارلیمانی استثنیٰ ختم کیا جا چکا تھا، جبکہ کئی دیگر سرکاری عہدیدار بھی زیر حراست آئے ہیں جن کے نام اس مقدمے میں سامنے آئے تھے۔
عراق کی سپریم جوڈیشل کونسل نے بتایا ہے کہ عدنان الجمیلی سے تقریباً 8 کروڑ 60 لاکھ امریکی ڈالر، 70 جائیدادیں، 21 لگژری گاڑیاں اور تقریباً تین کلو گرام سونا برآمد کیا گیا ہے۔
دریں اثنا عراقی وزیراعظم علی فالح الزیدی نے کہا ہے کہ بدعنوانی کے مقدمات کی تحقیقات جاری رہیں گی اور قومی خزانے سے لوٹی گئی رقوم اور سرکاری اثاثے ہر صورت واپس لائے جائیں گے۔
یہ کارروائیاں ایسے وقت میں کی گئی ہیں جب نئی عراقی حکومت نے سرکاری وسائل کے تحفظ، بدعنوانی کی روک تھام اور قومی اثاثے واپس لانے کے لیے اعلیٰ خودمختار کونسل برائے نگرانی، انسداد بدعنوانی اور سرکاری املاک کی واپسی قائم کی ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) اور یورپی یونین نے عراق میں بدعنوانی کے خلاف جاری اقدامات کا خیر مقدم کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کے درمیان بہتر تعاون اور سرکاری اثاثوں کی واپسی کے عمل کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیا ہے۔
آپ کا تبصرہ