20 جون 2026 - 12:18
کربلا آزادی اور حریّت کا استعارہ ہے: مولانا کلب جواد نقوی

امام باڑہ غفران مآبؒ میں عشرۂ محرم الحرام کی تیسری مجلس کو خطاب کرتے ہوئے مولانا کلب جواد نقوی نے عزائے سیدالشہداء کی عظمت اور اہمیت کو بیان کیا۔انہوں نے کہاکہ عزائے امام حسینؑ شعائر اللہ میں ہے ۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، امام باڑہ غفران مآبؒ میں عشرۂ محرم الحرام کی تیسری مجلس کو خطاب کرتے ہوئے مولانا کلب جواد نقوی نے عزائے سیدالشہداء کی عظمت اور اہمیت کو بیان کیا۔انہوں نے کہاکہ عزائے امام حسینؑ شعائر اللہ میں ہے ۔قرآن مجید میں اللہ نے حکم دیاہے کہ اے رسولؐ اللہ کے ایام کی یاد منائیے ۔اللہ نے ایام کی یاد منانے کا حکم تو دیاہے مگر دنوں کو مخصوص کرنے کے بجائے معیار بتلایا۔قرآن نے کہاکہ اُن دنوں کی یاد منائی جائے جو صبرو شکر کرنے والوں کے لئے درس عبرت ہیں ۔مولانانے کہاکہ کربلا سے زیادہ صبروشکر ہمیں کہیں نظر نہیں آتا،اس لئے کربلا کی یاد منانا دراصل اللہ کے ایام کی یاد مناناہے ۔

مولانانے اترپردیش کے مختلف ضلعوں میں شہید آیۃ اللہ خامنہ ای ؒ کی تصویریں ہٹانے کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ اترپردیش کے کئی ضلعوں سے خبریں آرہی ہیں شہید آیت اللہ خامنہ ای ؒ کی تصویروں کو پولیس ہٹوارہی ہے ۔پولیس کہہ رہی ہے کہ اوپر سے حکم آیاہے کہ شہیدآیۃ اللہ خامنہ ای کی تصویریں نہ لگنے دی جائیں ۔مولانانے کہاکہ آخر اوپر سے یہ حکم کس نے دیا؟ کیا ٹرمپ اور نتن یاہو نے یہ حکم دیاہے ؟ ہندوستان کی حکومت اعلان کردے کہ ہندوستان میں مودی اور یوگی کی حکومت نہیں بلکہ نتن یاہو اور ٹرمپ کی حکومت ہے ۔اگر یہاں مودی اور یوگی کی حکومت ہے تو پھر نتن یاہو اور ٹرمپ کا حکم ہندوستان میں نہیں چلناچاہیے ۔مولانے آگے کہاکہ یاد رکھیے شہید سے وہ خوف زدہ ہوتاہے جو ظالم ہوتاہے ۔

مولانانے کہاکہ اب جہاں بھی تصویریں نہیں لگی ہیں وہاں بھی لگائی جائیں ۔تمام سبیلوں اور گھروں پر تصویریں لگائی جائیں ۔لوگ مجلسوں اور جلوسوں میں شہید کی تصویروں کے ساتھ شریک ہوں ۔انہوں نے کہاکہاگر کسی سبیل پر آپ کو شہداء کی تصویریں نظر نہ آئیں تو سمجھ لیجیے گا کہ وہ مظلوم کا حامی نہیں بلکہ ظالموں کا ساتھی ہے ۔کیونکہ آیۃ اللہ خامنہ ای نے مظلوموں کے لئے اپنی جان دی ہے ۔

جو ظالموں کی مخالفت اور مظلوموں کی حمایت نہ کرسکے وہ امام حسینؑ کا حامی نہی ہوسکتا۔مولانانے کہاکہ کچھ لوگ مردہ یزید پر تولعنت کرتے ہیں مگر زندہ یزید کے پیر چومتے ہیں ،ایسے لوگ حسینی نہیں ہوسکتے ۔مولانانے کہا کہ بار بار ہم سے پوچھاجاتاہے کہ آخر کیاوجہ ہے کہ صرف ایران امریکہ سے ٹکرارہاہے ،جب کہ دوسرے مسلمان ملک بھی موجود ہیں مگر وہ امریکہ و اسرائیل کی غلامی کررہے ہیں ۔یاد رکھیے ایران کا تنہا ظالم طاقتوں سے ٹکرانایہ ثابت کرتاہے کہ جہاں کربلا اورحسین ؑکی یاد ہوتی ہے وہاں غلامی کی گنجائش نہیں ہوسکتی ۔کربلا آزادی کے استعارے کا نام ہے ۔امام حسینؑ کا ماننے والا سر کٹوادے گامگر سر نہیں جھکائے گا۔آج دیکھ لیجیے مظلومیت کی جیت ہوئی ہے اور ظلم کو شکست ہوئی ہے ۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha