اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، جوزف عون نے نئے ہجری سال کے آغاز کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ لبنان اس وقت انتہائی حساس اور غیر معمولی حالات سے گزر رہا ہے، جبکہ پورا خطہ بھی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال اور پیچیدہ چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، جس کے پیش نظر تمام فریقوں کو اعلیٰ سطح کی ذمہ داری اور بیداری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں لبنانی عوام کو پہلے سے زیادہ اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہیے، ریاستی اداروں کے گرد متحد ہونا چاہیے اور قومی و انسانی ہم آہنگی کو فروغ دینا چاہیے تاکہ ملک کو درپیش خطرات کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔ ان کے بقول لبنان کی خودمختاری، سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے یہ امر ناگزیر ہے۔
صدر عون نے امید ظاہر کی کہ حالیہ پیش رفت لبنان کے عوام کی طویل مشکلات کے خاتمے، مقبوضہ علاقوں کی آزادی اور لبنانی عوام کی عزت، وقار اور امن کی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ بنے گی۔
دریں اثنا، صدر لبنان نے صدارتی محل بعبدا میں نواف سلام سے ملاقات کی، جس میں ملکی اور علاقائی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
لبنانی ایوانِ صدر کے مطابق، ملاقات کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ معاہدے اور اس کے ممکنہ اثرات پر بھی گفتگو ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے اس پیش رفت کو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سیاسی و سفارتی حل کی جانب پیش رفت کے لیے ایک مثبت قدم قرار دیا۔
اجلاس میں لبنان، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان آئندہ ہفتے واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کے اگلے دور کی تیاریوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔
صدر عون اور وزیر اعظم نواف سلام نے اس موقع پر مذاکرات کے حوالے سے لبنان کے مستقل مؤقف کا اعادہ کیا، جس میں مکمل جنگ بندی، مقبوضہ علاقوں سے اسرائیلی افواج کا انخلا، بین الاقوامی سرحدوں تک لبنانی فوج کی تعیناتی، لبنانی قیدیوں کی واپسی اور جنگ سے متاثرہ علاقوں کی تعمیرِ نو کا آغاز شامل ہے۔
آپ کا تبصرہ