اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنان کے ممتاز جعفری مفتی شیخ احمد قبلان نے خطے میں حالیہ سیاسی تبدیلیوں کے تناظر میں لبنان کی داخلی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے موجودہ حکومت اور وزارتِ خارجہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومتی پالیسیوں کا تسلسل لبنان کے قومی مفادات کے خلاف ہے، اس لیے ایک ایسی نئی حکومت تشکیل دی جانی چاہیے جس میں مختلف سیاسی اور قومی جماعتیں، ازاں جملہ جریان المردہ، سوشلسٹ پروگریسو پارٹی، المستقبل تحریک، آزاد قومی دھارا اور مقاومت کے حامی سیاسی دھڑے شریک ہوں۔
شیخ قبلان نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعاون کو لبنان کے استحکام کے لیے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ریاض اور تہران کے مثبت تعلقات لبنان میں قومی یکجہتی اور شیعہ سنی بھائی چارے کے فروغ میں مددگار ثابت ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اگر خطے میں ایران کے مؤثر کردار کو مدنظر رکھتے ہوئے تعمیری کردار ادا کرے تو یہ لبنان کے داخلی استحکام اور سیاسی ہم آہنگی کے لیے سودمند ہوگا۔
جعفری مفتی نے لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری کو قومی توازن اور اتحاد کی ضمانت قرار دیتے ہوئے کہا کہ محورِ مقاومت کی کامیابی درحقیقت لبنان کی قومی وحدت کی کامیابی ہے۔ ان کے بقول لبنان کسی بیرونی طاقت کی سیاسی میراث نہیں بلکہ اس کے تمام شہریوں کا مشترکہ وطن ہے۔
شیخ قبلان نے ان سیاسی حلقوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جنہوں نے، ان کے بقول، امریکی اور صہیونی پالیسیوں کے زیر اثر ملک کو خطرناک صورتحال سے دوچار کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ ماضی کے تجربات سے سبق سیکھتے ہوئے داخلی امن، قومی خودمختاری اور آزادانہ فیصلہ سازی کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
انہوں نے جنوبی لبنان، ضاحیہ اور بقاع کے عوام کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان علاقوں کو لبنان کی بقا اور قومی وقار کی علامت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان علاقوں کی تعمیرِ نو عزم اور سنجیدگی کے ساتھ کی جائے گی تاکہ لبنان مزید مضبوط اور مستحکم ہو سکے۔
شیخ احمد قبلان نے اس بات پر زور دیا کہ مستقبل کا لبنان انصاف، طاقت، قومی شراکت داری اور مسلم و مسیحی برادریوں کے پرامن بقائے باہمی کی بنیاد پر استوار ہونا چاہیے، نہ کہ واشنگٹن اور تل ابیب کی سیاسی ترجیحات کے مطابق۔
انہوں نے اپنے پیغام کے اختتام پر کہا کہ لبنان ایک نئے سیاسی مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، جہاں قومی شراکت داری اور عوامی ارادے کو بنیادی حیثیت حاصل ہوگی، اور آئندہ حکومت کو اسی نئی سیاسی حقیقت کی نمائندگی کرنی چاہیے۔
آپ کا تبصرہ