17 مئی 2010 - 19:30

ملا طوفان اور ملا رفیق کے طالبان گروپوں کی لڑائی میں 50 طالبان ہلاک ہوگئے ہیں اور دونوں گروپوں نے ایک دوسرے کے سینکڑوں افراد اغوا کرنے کا دعوی بھی کیا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق طالبان کے دو گروپ وسطی کرم تحصیل میں آپس میں لڑ پڑے ہیں اور کل سے شروع ہونے والی لڑائی اب تک جاری ہے۔ ملا طوفان (ملانورجمال) اورکزئی ایجنسی سے تعلق رکھتا ہے اور حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد طالبان مرکزی شوری کو ڈرا دھمکا کر پاکستان طالبان کا سرغنہ بن بیٹھا ہے جبکہ ملا محمد رفیق نام نہاد وسطی کرم کا باشندہ ہے اور اس کو بعض مقامی قبائل کی حمایت حاصل ہے۔ یہ دونوں کمانڈر تین سال سے جاری کرم اور ہنگو کے علاقوں کی لڑائیوں میں براہ راست ملوث ہیں تا ہم وسطی کرم کے علاقے ڈوگر کے علاقے میں سرکاری افواج کی جاری کاروائی اور پاراچنار کے شیعہ قبائل کے ساتھ جنگ کی نوعیت کے تعین کے حوالے سے ان کے درمیان شدید اختلافات پائے جاتے ہیں اور یہی اختلافات دو مرتبہ ان دو گروپوں کے درمیان لڑائی کا باعث ہوئے ہیں۔

مارچ کے اوائل میں بھی ان دو گروپوں کے درمیان لڑائی ہوئی اور اس لڑائی میں فریقین کے 15 افراد مارے گئے جبکہ ملا طوفان کے افراد نے ملارفیق کے ایک کمانڈر سمیت 9 افراد اغوا کرلیا تھا جن میں سے 6 افراد کو بعد میں گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔ لڑائی میں قاری یوسف نامی ایک شدت پسند کمانڈر بھی مارا گیا تھا لیکن یہ معلوم نہ ہوسکا کہ اس کا تعلق کس گروپ سے تھا۔ کل سے شروع ہونے والی لڑائی میں بھی فریقین کے 50 کے قریب افراد مارے گئے ہیں جبکہ دونوں گروپوں کا دعوی ہے کہ انھوں نے ایک دوسرے کے سو سے زائد افراد گرفتار کرلئے ہیں۔ موصولہ رپورٹوں کے مطابق ملا نورجمال کو سفاکی اور درندگی کی وجہ سے ملا طوفان کا نام دیا گیا ہے اور اس نے اب تک درجنوں افراد کو اپنے ہاتھ سے ذبح کرلیا ہے۔ ملا طوفان کا اصرار ہے کہ ڈوگر اور وسطی کرم میں سرکاری آپریشن کا مسلحانہ انداز سے جواب دینا چاہئے جبکہ ملا رفیق اپنے علاقوں کو سرکاری کاروائی سے بچانے کے لئے حکومت کے ساتھ مذاکرات کا مطالبہ کررہا ہے اور دوسری طرف سے کرم ایجنسی کے شیعہ باشندوں کے ساتھ جنگ کی نوعیت کے تعین کے حوالے سے ان دو کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے اور یہی اختلافات ان کی لڑائی کا سبب ہیں۔ دوسری طرف سے ملا رفیق وسطی کرم کا باشندہ اور نہایت گمنام شخص ہے تا ہم اس کو مقامی پاڑہ قبائل کی حمایت حاصل ہے اور حکومت بھی اس کے گروپ کو قومی لشکر کا نام دے رہی ہے جو باغی طوفان گروپ کے خلاف برسرپیکار ہے۔ امر مسلم یہ ہے کہ بیت اللہ محسود بالواسطہ طور پر اور حکیم اللہ محسود، موجودہ طالبان سرغنہ ملا طوفان حتی ملا رفبق براہ است طور پر پاراچنار اور کرم ایجنسی کے مصائب و مسائل کے ذمہ دار اور 860 شہیدوں کے قاتل ہیں اور ہنگو، اورکزئی، کوہاٹ، ٹانک، پشاور اور ڈیرہ اسماعیل خان کے شہیدوں کے قتل میں بھی یہ افراد ملوث ہیں۔ .............../110