اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، پاکستان کی مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ کی دباؤ اور دھمکیوں پر مبنی پالیسی مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ ایران پر اپنی مرضی کے مطابق معاہدہ مسلط کرنے یا اسے پیچھے ہٹنے پر مجبور کرنے میں ناکام رہا ہے، جبکہ تہران کے خلاف استعمال کیے جانے والے تمام دباؤ کے ہتھکنڈے مطلوبہ نتائج نہیں دے سکے۔
خواجہ سعد رفیق کے مطابق ایران کے اندر "ریاست مخالف عناصر" بھی ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنے میں ناکام رہے ہیں اور امریکہ و اس کے اتحادیوں کی توقعات کے برعکس ایران کا داخلی اتحاد برقرار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ہمسایہ مسلم ممالک نے بھی کسی بھی "استعماری یا جنگی منصوبے" میں حصہ لینے سے انکار کیا ہے، جبکہ کئی عرب ممالک خطے میں جنگ کے اخراجات برداشت کرنے کے خواہشمند نہیں۔
عالمی رائے عامہ اور نیٹو میں مخالفت
سابق پاکستانی وزیر نے کہا کہ عالمی رائے عامہ اور حتیٰ کہ نیٹو کے کئی اتحادی ممالک بھی ایران پر کسی بھی فوجی حملے کے مخالف ہیں اور واشنگٹن کی جارحانہ پالیسیوں کو عالمی امن کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔
انہوں نے چین اور روس کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی خاموش مگر اسٹریٹجک حمایت نے خطے میں طاقت کے توازن پر اثر ڈالا ہے۔
خواجہ سعد رفیق کے مطابق امریکہ اب اپنی ہی بنائی ہوئی پالیسیوں کے جال میں پھنس چکا ہے، اور اس کی یکطرفہ اور جارحانہ حکمتِ عملی نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت اور امریکی عوام کے لیے بھی بھاری نقصان کا باعث بن رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ طاقت، دباؤ اور یکطرفہ فیصلوں کی پالیسی اب مؤثر نہیں رہی اور دنیا ایک نئے سیاسی و سیکیورٹی توازن کی طرف بڑھ رہی ہے۔
آپ کا تبصرہ