28 مئی 2026 - 16:05
لبنان میں صہیونی رژیم کی جانب سے طبی عملے اور امدادی کارکنوں کو منظم انداز میں نشانہ بنانے کا انکشاف

جنوبی لبنان پر اسرائیلی فوج کے حملوں نے خوفناک رخ اختیار کر لیا ہے، جہاں اب امدادی ٹیموں، ایمبولینسوں اور طبی عملے کو بھی جان بوجھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے، حالانکہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق انہیں تحفظ حاصل ہونا چاہیے۔ حملوں کا طریقہ کار ایسا ہے کہ پہلے ایک حملہ کیا جاتا ہے اور پھر زخمیوں کو بچانے کے لیے آنے والی امدادی ٹیموں پر دوبارہ حملہ کر دیا جاتا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنان کی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ 2 مارچ 2026 سے جاری جھڑپوں کے دوران طبی اور شعبۂ صحت سے وابستہ 125 افراد شہید ہو چکے ہیں، جو جنگ میں شہید ہونے والوں کی مجموعی تعداد کا تقریباً 4 فیصد بنتے ہیں۔

اس عرصے کے دوران 155 امدادی ٹیموں کو براہِ راست حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ 158 ایمبولینسیں اور درجنوں طبی مراکز و اسپتال تباہ یا ناکارہ ہو چکے ہیں۔

ان حملوں کی ایک نمایاں مثال قصبہ "دیر قانون النہر" میں سامنے آئی، جہاں زخمیوں کو بچانے کے لیے پہنچنے والی امدادی ٹیموں پر اسرائیلی ڈرون نے دوسرے حملے میں بمباری کی، جس کے نتیجے میں دو امدادی کارکنوں سمیت 6 افراد شہید ہوگئے۔

امدادی اداروں، خصوصاً "جمعیت پیشاہنگی رسالہ اسلامی" کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملے وقتی یا اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمتِ عملی کا حصہ ہیں، جس کا مقصد "آگ کے ذریعے نقل و حرکت روکنا" اور امدادی سرگرمیوں کو مفلوج کرنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ درجنوں ایمبولینسوں اور امدادی مراکز کی تباہی کے باوجود سول ڈیفنس کی ٹیمیں اپنے طریقۂ کار میں تبدیلی، غیرمرکزی نظام اور متبادل راستوں کے استعمال کے ذریعے اب بھی خدمات انجام دے رہی ہیں تاکہ زیرِ حملہ علاقوں میں امدادی نظام مکمل طور پر بند نہ ہو۔

امدادی کارکنوں نے "دوسرے حملے" کی مہلک حکمتِ عملی سے بچنے کے لیے سخت حفاظتی اقدامات اختیار کیے ہیں، جن میں فضائی نقل و حرکت کی مسلسل نگرانی، امدادی گاڑیوں کو ایک جگہ جمع نہ کرنا اور جائے وقوعہ سے فوری انخلا شامل ہے۔

اسی دوران سرکاری اداروں کے تعاون سے ایک مرکزی آپریشن روم بھی قائم کیا گیا ہے، جو ان حملوں کی تفصیلی دستاویزات تیار کر رہا ہے تاکہ انہیں بین الاقوامی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے سامنے پیش کیا جا سکے اور ان جنگی جرائم کو ریکارڈ پر لایا جا سکے، جن کا مقصد زخمیوں کی جان بچانے کی امید کو ختم کرنا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha