28 مئی 2026 - 17:50
اسرائیلی جنرل کا اعتراف: ایران کے خلاف نیتن یاہو کی حکمتِ عملی مکمل ناکامی سے دوچار ہوئی

اسرائیلی فوج کے ریٹائرڈ جنرل اور تل ابیب کے انسٹی ٹیوٹ برائے قومی سلامتی مطالعات کے سینئر محقق دانی سیترینوویچ نے ایران کے خلاف فوجی مہم کو "اسٹریٹجک شکست" قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جنگ اپنے کسی بنیادی ہدف کے قریب بھی نہیں پہنچ سکی بلکہ اس کے نتیجے میں اسرائیل کی عالمی پوزیشن کمزور اور امریکی عوام میں اس کی ساکھ شدید متاثر ہوئی ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، تل ابیب یونیورسٹی سے وابستہ محقق دانی سیترینوویچ نے اپنے ایک تجزیاتی مضمون میں، جو القدس العربی نے شائع کیا، لکھا کہ اسرائیل اور امریکہ نے 28 فروری کو ایران کے نظام کو گرانے کے مقصد سے فوجی کارروائی شروع کی، لیکن یہ منصوبہ ابتدا ہی سے غلط اندازوں اور ایران کے سیاسی و سماجی ڈھانچے کے ناقص فہم پر مبنی تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس کارروائی، جسے اسرائیل کی جانب سے کسی بیرونی ملک میں ایک اعلیٰ کمانڈر کو ختم کرنے کی پہلی کوشش قرار دیا جا رہا تھا، غیر حقیقت پسندانہ تصورات کے تحت تیار کیا گیا تھا، جن میں ایران کے نظام کو انتہائی کمزور سمجھنا اور حتیٰ کہ داخلی عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے کرد عناصر کے استعمال جیسے خیالات بھی شامل تھے۔

سیترینوویچ کے مطابق، حملے کے صرف تین روز بعد ہی واضح ہوگیا تھا کہ ایران میں نظام کی تبدیلی کا ہدف حاصل نہیں ہو سکے گا، تاہم اس کے باوجود جنگ بغیر کسی واضح اسٹریٹجک مقصد کے جاری رکھی گئی۔

اسرائیلی تجزیہ نگار نے مزید کہا کہ اگرچہ اس جنگ میں کچھ وقتی اور محدود عسکری کامیابیاں حاصل ہوئیں، لیکن مجموعی طور پر اس کے نتیجے میں اسرائیل پہلے سے زیادہ خراب صورتحال سے دوچار ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب ایران میں نسبتاً نوجوان اور زیادہ انتقامی مزاج رکھنے والی قیادت سامنے آ گئی ہے، جبکہ سپاہ پاسداران کا فیصلہ سازی میں کردار پہلے سے زیادہ مضبوط ہو چکا ہے۔

دانی سیترینوویچ نے اعتراف کیا کہ جوہری معاملے میں بھی جنگ کے نتائج اسرائیل کے حق میں نہیں رہے۔ ان کے مطابق اگر مستقبل میں کوئی معاہدہ بھی طے پاتا ہے تو اس کی شقیں صرف نگرانی اور یورینیم افزودگی محدود کرنے کے وعدوں تک محدود ہوں گی، جن پر ایران پہلے بھی کسی حد تک آمادہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے پاس اب بھی سیکڑوں کلوگرام 60 فیصد افزودہ یورینیم اور اس سے کم سطح پر مزید بڑی مقدار موجود ہے، جبکہ یہ بھی واضح نہیں کہ مستقبل میں کسی ممکنہ معاہدے پر عملدرآمد کی ضمانت کون دے سکے گا۔

اسرائیلی سابق جنرل نے اس جنگ کے علاقائی اور عالمی اثرات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ آبنائے ہرمز پر ایران کے اثر و رسوخ اور توانائی کی ترسیل میں رکاوٹوں نے عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا، جبکہ اس مسئلے کا کوئی مؤثر عسکری حل سامنے نہیں آسکا۔

انہوں نے کہا کہ اس جنگ کا ایک اہم نتیجہ امریکی عوام میں اسرائیل کی ساکھ کو پہنچنے والا شدید نقصان ہے، کیونکہ اب اسرائیل کو نہ صرف جنگ شروع کرنے والے فریق بلکہ ایک ناکام جنگ کے ذمہ دار کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے، جس نے امریکی معیشت کو بھی متاثر کیا۔

دانی سیترینوویچ نے آخر میں تاکید کی کہ امریکہ کی حمایت پر انحصار کرنے والی اسرائیلی حکمتِ عملی عملاً ناکام ہو چکی ہے اور مستقبل میں کسی امریکی صدر کے لیے ایسی مہم جوئی کو دوبارہ دہرانا آسان نہیں ہوگا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha