بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛
- اسرائیل میں سابق امریکی سفیر اور پینٹاگون کا سابق اہلکار "ڈین شاپیرو (Daniel Shapiro)" (مخالف): خبروں میں بیان ہونے والا ایران-امریکہ معاہدہ کمزور معاہدہ ہے۔ یہ معاہدہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے کوئی رعایت حاصل کئے بغیر، 25 ارب ڈالر منجمد ایرانی اثاثوں کو ایران کے حوالے کرتا ہے۔ اس جنگ کا خالص نتیجہ، امریکی مفادات کے لئے زبردست تزویراتی نقصان تھا۔ امریکہ کے لئے یوم سیاہ ہے۔"
- جنگجویانہ فکر کا حامل امریکی اور یوکرین بغاوت کی منصوبہ ساز "وکٹوریا اولاند" کا شوہر "رابرٹ کیگن": امریکہ کو ایران سے مطلق شکست ہوئی اور امریکہ نے جنگ شروع کرکے ایران کو عالمی طاقت بنایا۔ اگر آبنائے ہرمز کی آزادی کو حاصل نہ کرسکے تو مکمل شہ مات ہوجائے گا۔"
- روئٹرز: اب، اس جنگ کے تین مہینے بعد، جسے چھ ہفتوں میں امریکہ کی فیصلہ کن فتح پر اختتام پذیر ہونا تھا، ٹرمپ ایران کی دلدل میں پھنسا ہؤا ہے اور اپنی آبرو بچانے کے لئے جنگ سے نکلنے یا اس کا دامن پھیلانے سے عاجز ہے۔"
- سابق امریکی وزیر خارجہ "مائیک پومپیو" (مخالف): "ٹرمپ کا ممکنہ معاہدہ اوباما حکومت کے دور میں ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے (Joint Comprehensive Plan of Action [JCPOA]) کی مانند ہے۔"
واضح رہے کہ اسرائیل نواز مائیک پومپیو ٹرمپ کے پہلے دور میں امریکی وزیر خارجہ تھا اور اس نے اوباما کے دور میں ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی اور ٹرمپ کو ایران کے خلاف فوجی اقدام پر آمادہ کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا تھا۔ آج اس کی خواہش پوری ہوئی ہے، جنگ ہو گئی ہے اور اس کا سابق باس ٹرمپ، ہار گیا ہے اور ایسے معاہدے پر مجبور ہؤا ہے جو اس [پومپیو] کے مطابق، ویسا ہی معاہدہ ہے جو اوباما کے دور میں ہؤا تھا، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ غلط تھا اور اس کی خواہش کے مطابق عمل نہیں ہو پایا ہے۔
- وائٹ ہاؤس کمیونکشن ڈائریکٹر تائیوانی-چینی نژاد اسٹیون چیونگ (Steven Cheung) پومپیو سے: "پومپیو کیا بکواس کر رہا ہے، وہ اپنا احمق منہ stupid mouth" بند کر دے اور مسئلہ پیشہ وروں کے سپرد کر دے۔"
= ریپبلکن سینیٹر "رینڈ پال Rand Paul" (حامی): "جنگ ہمیشہ مذاکرات کے ذریعے ختم ہوتی ہے۔ ٹرمپ امن مذاکرات کے ناقدین راہ حل "سب سے پہلے امریکہ" کو وقت دیں۔
نیویارک پوسٹ: ٹرمپ نے اپنی رائے تبدیل کر لی ہے اور اب معاہدے کا امکان نمایاں طور پر کم ہو گیا ہے؛ معاہدے کا امکان ٹرمپ کی نیتن یاہو کو کال کرنے کے بعد بہت زیادہ کمزور ہوگيا ہے۔
دہشت گرد امریکی انتظآمیہ کے صہیونی-عیسائی وزیر خارجہ "مارکو روبیو" نے کہا: جس بھی ملک سے ہم نے بات کی ہے، وہ سمجھتا ہے کہ یہ نہ صرف ایک بہت معقول تجویز ہے، بلکہ دنیا کے لئے ایک درست اقدام ہے۔ جیسا کہ صدر ٹرمپ نے کہا ہے، انہیں کوئی جلدی نہیں ہے۔ وہ کوئی برا معاہدہ کرنے والے نہیں ہیں۔ میرا مطلب ہے، صدر کسی نامناسب معاہدے میں شامل نہیں ہوں گے۔ لہٰذا ہمیں دیکھنا ہوگا کہ کیا ہوتا ہے۔
ایرانی تجزیہ کار ڈاکٹر پرفیسر سید محمد مرندی: ٹرمپ کے ساتھ معاہدے سے جذباتی ہونے یا معاہدہ نہ ہونے سے فکرمند ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ