21 مئی 2026 - 15:58
امریکی جریدے نے ایران کے خلاف جنگ کو ٹرمپ کی سب سے بڑی ناکامی قرار دے دیا

امریکی جریدے فارن پالیسی نے ایران کے خلاف امریکی جنگ کو اس کے بھرپور نتائج اور اثرات کے تناظر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سب سے بڑی شکست قرار دیا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، فارن پالیسی میگزین نے ایک تجزیے میں لکھا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ امریکہ کے لیے دور رس اقتصادی، فوجی اور جغرافیائی سیاسی نتائج کی وجہ سے ایک بحران بن چکی ہے اور توانائی کی منڈی اور طاقت کے عالمی توازن پر اس کا دباؤ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔

فارن پالیسی ميگزین نے لکھا ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امید تھی کہ وہ چینی صدر شی جن پنگ کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان امن معاہدے تک پہنچنے کے لیے ثالثی پر آمادہ کرلیں گے، لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔

فاضل تجزیہ نگار کے مطابق تہران تک بھی وہی خبریں پہنچ رہی ہیں جو ہم تک پہنچی ہیں۔ قرائن و شواہد سے بھی اس بات  نشاندھی ہوتی ہے کہ یہ جنگ ٹرمپ کے لیے تباہ کن بن چکی ہے۔اس بات سے قطع نظر کہ جنگ کیسے ختم ہوگي ہے، ٹرمپ، امریکہ اور پوری عالمی معیشت پر اس کے اثرات کا سلسلہ کافی عرصے تک جاری رہے گا۔

تجزیہ نگار نے جنگ میں واشنگٹن کی ناکامیوں کو اجاگر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایران حکومت اپنی جگہ برقرار ہے اور ایک نوجوان قیادت سامنے آگئي ہے۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ ایران کے پاس جنگ سے پہلے کے میزائلوں کا 70 فیصد ذخیرہ باقی ہے، اسے اپنے  70 فیصد موبائل لانچرز اور آبنائے ہرمز کے ساتھ اس کی 90 فیصد سے زیادہ میزائل سائٹس تک آپریشنل رسائی بھی حاصل ہے۔

ادھر امریکی محکمہ دفاع اپنے نقصانات کا اندازہ لگا رہا ہے اور واشنگٹن پوسٹ کی تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ ایران نے 15 امریکی فوجی اڈوں میں قائم 217  تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ سی این این نے رپورٹ کیا کہ بحرین، کویت، عراق، متحدہ عرب امارات اور قطر میں کم از کم نو امریکی فوجی اڈوں کو ایران کے حملوں میں "نمایاں نقصان" پہنچا ہے۔

تباہ شدہ امریکی فوجی تنصیبات کی تعمیر نو میں برسوں اور اربوں ڈالر لگیں گے۔ سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے مطابق امریکہ اس جنگ میں اپنے پیٹریاٹ میزائلوں کا 50 سے 60 فیصد تک استعمال کرچکا ہے۔ اور آئیے انسانی نقصان کو نہ بھولیں؛ اس لڑائی میں کم از کم 13 امریکی فوجی ہلاک اور 400 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ ان کے اہل خانہ یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ ایسا کیوں ہوا؟

فارن فالیسی میگزین کے مطابق امریکہ میں گزشتہ سال سے پٹرول کی قیمتوں میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ تجارتی نقل و حمل میں استعمال ہونے والا ڈیزل 59 فیصد مہنگا ہوگيا۔ وجہ واضح ہے: جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش نے مارکیٹ میں سپلائی کے نظام کے محدود کردیا ہے۔

 رپورٹ میں کہا گیا ہے صورتحال کو سمجھنے کے لیے صرف اتنا جاننا کافی ہے کہ، عالمی معیشت 1980 کے بعد سے صرف چار مرتبہ 2 فیصد سے کم کی شرح سے آگے بڑھی ہے، اور دنیا کو 1950 کے بعد سے صرف 2 بار عالمی کساد بازاری کا سامناکرنا پڑا ہے ایک  2008 کے مالیاتی بحران اور 2020 کی کورونا وائرس کے دوران ۔ان دو بڑے جھٹکوں میں ایران جنگ کے اثرات بھی شامل ہوگئے تو یہ ٹرمپ اور امریکہ کے لیے ایک تاریخی اسٹریٹیجک غلطی ہوگی۔

جنگ جاری رکھنا ایک ایسا آپشن ہے جس کا ٹرمپ کھل کر  بیان کر رہے ہیں۔ لیکن اس کے فوائد کا حصول غیر یقینی ہے اور اخراجات بہت زیادہ ہیں۔لہذا سفارت کاری ہی اس صورتحال سے نکلنے کا بہترین راستہ ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha