اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، مڈل ایسٹ مانیٹر کے مضمون نگار نے لکھا ہے کہ امریکہ اور صیہونی حکومت کے اندازوں کے مطابق سنگین فوجی دباؤ کی صورت میں تہران کو فورا گھٹنے ٹیک دینے چاہیے تھے لیکن نہ صرف ایسا نہ ہوا اور ایران نے حملوں کو برداشت کیا بلکہ تہران نے جوابی کارروائی پر مبنی اپنی صلاحیتیں برقرار رکھتے ہوئے مغربی ایشیا میں امریکہ کی فوجی محدودیتوں کا پردہ فاش کردیا۔
مضمون نگار کے مطابق امریکہ اور اسرائیل ایران کو شکست دینے میں ناکام ہوگئے اور یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکہ اس راستے پر نکل پڑا ہے جس کا تعین وائٹ ہاؤس میں نہیں بلکہ نتن یاہو اور اسرائیلی لابی نے کیا تھا جس کے نتیجے میں ٹرمپ کابینہ کے سامنے منظرنامہ اور بھی دھندلا ہوگیا ہے۔ صیہونی وزیر اعظم اپنے سیاسی مستقبل کے لیے امن کی ہر کوشش کو سبوتاژ کر رہے ہیں اور ادھر ٹرمپ کو معاشی حالات کو سدھارنے اور جنگوں کو ختم کرنے کے اپنے انتخاباتی وعدے کھٹائی میں پڑتے دکھائی دے رہے ہیں۔
مڈل ایسٹ مانیٹر نے لکھا ہے کہ جنگ اور سفارتکاری کے میدانوں میں ایران نے امریکہ کو جو جواب دیا ہے، ٹرمپ کو بہت بھاری پڑ رہا ہے یہاں تک کہ مبصرین کے مطابق، ری پبلیکن پارٹی میں ان کی پوزیشن کمزور ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
اس رپورٹ میں آیا ہے کہ ایران پر جنگ مسلط کرکے امریکہ نے اپنی یکطرفہ تسلط پسندانہ پوزیشن کا خاتمہ کردیا اور اب جنوبی دنیا کے بہت سے ملک اس جنگ کو مغربی ایشیا میں ایک اور جنگ نہیں بلکہ یک قطبی نظام کے سامنے ایران کی استقامت کو پوری دنیا کی بدلتی پوزیشن اور مغرب اور امریکہ کی آمریت کے آخری دنوں کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
آپ کا تبصرہ