15 مئی 2026 - 16:15
عراقچی: سلامتی کونسل میں اصلاح، انتخاب نہیں، بلکہ اقوام متحدہ کی بقا کے لئے ایک ضرورت ہے

وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف امریکا اور غاصب صیہونی حکومت کی مسلطہ کردہ جنگ پر خاموشی کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ناکارآمد ہونے کا کھلا ثبوت قرار دیا ہے

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے جمعہ 15 مئی کو نئی دہلی میں برکس وزرائے خارجہ کے اجلاس کے دوسرے دن کے سیشن سے خطاب میں کہا کہ آج پابندیاں، خود مختار اور ترقی پذیر ملکوں پر دباؤ اور ان کے خلاف اقتصادی جنگ کے حربے میں تبدیل ہوگئی ہیں اور موجودہ سیاسی نظام پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ آج دنیا نہ ختم ہونے والی جنگوں، کھلے تشدد اور انتہا پسندانہ خود سری کی جانب واپسی کی شاہد ہے۔

انھوں نے کہا کہ امن، آزادی اور انسانی عظمت نیز حقوق کا احترام ختم ہوچکا ہے اور اس کی جگہ نسل کشی، غارتگری اور جارحیت پر افتخار نے لے لی ہے۔  

 وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا کہ طاقتور جارحین نے، بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق اور اقوام متحدہ کے منشور کو   جارحیت اور ناجائز قبضے کی توجیہ کے لئے دروغگوئی اور بے بنیاد نیز غلط بیان بازی کی سطح تک گرا دیا ہے۔  

انھوں نے کہا کہ اکثر بین الاقوامی اداروں، بالخصوص اقوام متحدہ نے یک طرفہ زور زبردستی کے مقابلے میں قانون پر عمل درآمد کو ہی محدود کردیا ہے۔  

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے، نئی دہلی میں عالمی "نظام کی تعمیرنو" کے زیر عنوان، برکس وزرائے خارجہ کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ ان حالات میں، عالمی کثیر جہتی اصولوں کے نفاذ کے لئے، جس کی بنیاد پر برکس قائم اور دنیا کے سامنے آئی ہے، بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے منشور اور  کثیر جہتی عالمی حکمرانی کا احترام، ہر دور سے زیادہ  ضروری اور حیاتی ہے۔ بنابریں اسلامی جمہوریہ ایران اقوام متحدہ بالخصوص سلامتی کونسل میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔     

 انھوں نے کہا کہ ہمارے مد نظر، ایسی اصلاحات ہیں جن میں طاقت کی منصفانہ تقسیم ہو، صرف نام کی یا اراکین کے تناسب کی نہیں۔

 ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم ایسا عالمی نظام چاہتے ہیں  جس میں

 طاقت کی جگہ انصاف ہو۔

 قومی اقتدار پہلا اصول ہو۔
 سبھی انسانوں کے حقوق محترم ہوں۔ اور

ثقافتی اور سیاسی تنوع تسلیم کیا جائے۔

سید عباس عراقچی نے اپنے خطاب میں کہا کہ  اقوام متحدہ کی بقا کے لئے سلامتی کونسل میں اصلاح ضروری ہے۔ ہم ایسی سلامتی کونسل چاہتے ہیں جس میں دنیا کے سبھی براعظموں اور علاقوں کی نمائندگی ہو، جس میں طاقت کی ذمہ داری کے ساتھ منصفانہ تقسیم ہو اور یہ نہ ہو کہ طاقت صرف بعض ناجائز فائدہ اٹھانے والے جارح ملکوں کے اختیار میں ہو۔
 انھوں نے کہا کہ آج سلامتی کونسل عالمی نظام کے ناکارآمد ہونے اور عدم توازن کی سب سے بڑی علامت ہے۔  

 سید عباس عرا‍قچی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف امریکا اور غاصب صیہونی حکومت کی مسلط کردہ جنگ پر خاموشی سلامتی کونسل کے ناکارآمد ہونے کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔

انھوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم کرائسیس منینجمنٹ سے اسٹرکچر اور بنیادی ڈھانچے  کے مینجمنٹ کی طرف قدم بڑھائيں۔

ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا کہ ہمیں ایسے عالمی نظام کی ضرورت ہے جس میں امن و آشتی ہو، عدل واستحکام کے ثمرات ہوں اور ہمہ گیر مشارکت کے نتائج ہوں۔ آئيے برکس کی توانائیوں سے، منصفانہ عالمی حکمرانی کی تعمیر نو اور کثیر جہتی نظام کا اعتبار دوبارہ زندہ کرنے کے لئے کام لیں

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha