بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ سی آئی اے کے سابق افسر جان کریاکو John Kiriakou) نے رک سانچز (Rick Sanchez) کے ساتھ انٹرویو میں امریکہ میں صہیونی لابیوں کے شدید اثر و رسوخ کے پر شدید فکرمندی کا اظہار کیا۔

سابق سی آئی اے افسر، جان کریاکو
انھوں نے امریکی حکومت میں اسرائیلیوں کے زیر اثر و رسوخ کی سطح کے بارے میں کہا: "امریکی حکومت مکمل طور پر اسرائیلی ریاست کے زیر اثر ہے۔ میں آپ کو بتاتا ہوں کہ اسرائیلیوں کا سب سے زیادہ اثر و رسوخ کیپیٹل ہل (کانگریس) پر ہے۔ حکومت میں خاص طور پر سی آئی اے، محکمہ خارجہ اور کچھ حد تک وزارت جنگ میں کسی حد تک مزاحمتیں موجود ہیں؛ لیکن کانگریس میں اسرائیلیوں کا مکمل اور مطلق اثر و رسوخ ہے۔"
کریاکو نے وضاحت کی: "آئی پیک (AIPAC) کے لابسٹ ہیں جو خاص طور پر کانگریس کے ہر دفتر کے لئے مقرر کئے گئے ہیں، یہاں تک کہ وہ بس وہاں ہر روز اور سارا دن صوفوں پر بیٹھے رہتے ہیں۔ وہ پالیسی میٹنگوں میں موجود ہوتے ہیں!"
انھوں نے کہا: "وہ واحد غیر ملکی نمائندے ہیں جنہیں ان نشستوں میں شرکت کی اجازت ہے؛ لیکن کیا آپ تصور کر سکتے ہیں؛ میں حال ہی میں کیپیٹل ہل گیا، انٹیلیجنس کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر ٹام کاٹن کے دفتر کے سامنے، لِنڈسے گراہم کے دفتر کے سامنےر، کانگریس کے رکن رالف (رینڈی) فائن کے دفتر کے سامنے اسرائیل کا جھنڈا لگا ہؤا ہے۔ وہ اسرائیل کا جھنڈا اپنے دفتر کے داخلی راستے پر آویزاں کرتے ہیں۔"
سی آئی اے کے سابق افسر نے کسی بھی دوسرے جھنڈے کی عدم موجودگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: "کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ کوئی روس کا جھنڈا یا چین کا جھنڈا، مصر کا جھنڈا یا یونان کا جھنڈا امریکہ کے اندر اپنے دفتر میں لگا دے؟ ہم اگر ایسا کریں تو ہمیں غدار کہا جائے گا، لیکن اسرائیل کا جھنڈا لہرانا مکمل طور پر قابل قبول ہے اور ہم سے توقع کی جاتی ہے کہ ہم اس معاملے کو بہر صورت قبول کریں۔"
انھوں نے ایران کے بارے میں مختلف امریکی حکومتوں کے سامنے نیتن یاہو کی شیخیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: "ہمیں پچھلے چند ہفتوں میں پتہ چلا۔ باراک اوباما نے کہا: میری صدارت کے آخری دور میں بنیامین نیتن یاہو وائٹ ہاؤس پہنچا اور مجھ سے کہا کہ تم بس ایران پر بمباری کرو اور میں نے کہا کہ میں یہ کام نہیں کروں گا۔ پھر نیتن یاہو نے کہا کہ اگر تم یہ نہیں کرو گے تو ہم ایران پر بمباری کریں گے اور ایٹمی ہتھیار استعمال کریں گے اور میں نے کہا کہ بہت خوب، جاؤ کرو اور یوں نے میں نے اس کی شیخی پکڑ لی اور نیتن یاہو کچھ بھی نہیں کر پایا۔"
کریاکو نے وضاحت کی: "لیکن پھر نیتن یاہو واپس آیا اور ڈونلڈ ٹرمپ سے کہا کہ اگر تم ایران پر بمباری نہیں کرو گے تو ہم ایٹمی ہتھیار استعمال کریں گے اور ٹرمپ نے کہا: میں نہیں چاہتا کہ تم ایٹمی ہتھیار استعمال کرو، اس لئے میں ایران پر بمباری کروں گا۔"
ایران جنگ کے بارے میں ہونے والے دعوؤں میں سے ایک یہ ہے کہ نیتن یاہو کی ایران کے خلاف ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی، ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران پر حملے کو قبول کرنے کی وجوہات میں سے ایک تھی، حالانکہ بہت سے لوگوں نے اس دعوے کو مسترد کیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ